وہ فیکٹری جہاں دنیا کی سب سے شرمناک چیز بنائی جاتی ہے

نیویارک: جنسی روبوٹس کی دنیا میں ’رئیل ڈول‘ (RealDoll)نامی کمپنی کا نام سرفہرست ہے جو دنیا کی جدید ترین جنسی گڑیائیں بنانے میں شہرت رکھتی ہے۔ مصنوعی ذہانت کی حامل یہ جنسی گڑیائیں جیتی جاگتی خواتین سے اس قدر مشابہہ ہوتی ہیں کہ کوئی بھی دیکھ کر دھوکا کھا جائے۔ اب معروف مصنف ڈاکٹر کیٹ ڈیولین نے اپنی نئی کتاب کے سلسلے میں رئیل ڈول کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا ہے، جو کیلیفورنیا میں واقع ہے۔

کنگز کالج لندن سے وابستہ ڈاکٹر کیٹ اپنی کتاب ’ٹرنڈ آن: سائنس، سیکس اینڈ روبوٹس‘ (Turned On: Science, Sex and Robots)میں اپنے اس دورے کے متعلق لکھتی ہیں کہ ”رئیل ڈول ہیڈکوارٹرز کے اس دورے کے دوران میں ’ہارمنی روبوٹ‘ سے بھی ملی جو اس کمپنی کی جنسی گڑیاﺅں میں سے سب سے معروف ماڈل ہے۔اس ماڈل میں گاہکوں کو آپشن دیا جاتا ہے اور ان کی مرضی کی ہارمنی روبوٹ تیار کرکے انہیں دی جاتی ہے۔ گاہک اس روبوٹ کی شکل بھی اپنی مرضی کی بنوا سکتے ہیں۔ اس جنسی گڑیا کا سر اور جسم اس قدر خواتین سے مشابہہ تھا کہ میں حیران رہ گئی۔ اس گڑیا کے سر کی حرکت بھی ہو بہو انسانوں جیسی تھی۔ “

ضرور پڑھیں   13 سالہ طالبِ علم سے جنسی تعلق قائم کرنے پر 29 سالہ استانی کو 20 سال کے لیے جیل بھیج دیا گیا

ڈاکٹر کیٹ لکھتی ہیں کہ جب میں کمپنی کے پروڈکشن یونٹ میں گئی تو وہاں جس مہارت کے ساتھ کام ہو رہا تھا، اس پر میں ورطہ حیرت میں پڑ گئی۔ میں نے وہاں سے جنسی گڑیا کا ایک بازو اٹھا کر اس پر ہاتھ پھیرا، یہ بازو اتنا نرم و ملائم تھا کہ جیسے کسی خاتون کی جلد موئسچرائزر استعمال کرنے کے بعد نرم و ملائم ہوتی ہے۔ جنسی گڑیا کے بازو پر انسانوں کی طرح چھوٹے چھوٹے مسام بھی بنائے گئے تھے۔ یہ بازو اتنا حقیقی لگ رہا تھا کہ ایک لمحے کے لیے مجھے لگا جیسے یہ کسی جیتی جاگتی عورت کا بازو ہو۔ “

ضرور پڑھیں   انتہائی حیران کن جنسی گڑیائیں مارکیٹ میں آنے کے لیے تیار، انسانیت کے تازہ ترین شرمناک شوق

ڈاکٹر کیٹ کا کہناتھا کہ ”کہا جا رہا تھا کہ اگر جنسی روبوٹس کی ٹیکنالوجی اسی طرح ترقی کرتی رہی تو وہ وقت دور نہیں جب مرد خواتین کو تج دیں گے اور جنسی روبوٹس کے ساتھ جنسی تعلق کو ترجیح دینے لگیں گے لیکن رئیل ڈول ہیڈ کوارٹرز کے اس دورے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ یہ گڑیائیں جتنی بھی حقیقی انسانوں کے مشابہہ ہوں لیکن یہ انسانوں کا متبادل نہیں ہو سکتیں اور ان سے مردوخواتین کے تعلق کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔“

اپنا تبصرہ بھیجیں