عمران خان بھی ایک ڈاکو یا زمانہ بدل گیا ہے

لندن سے فون پر رانا ریاض بانی مرچ مصالحہ بول رہے تھے انہوں نے ناربری لندن میں اپنے ریسٹورینٹ کا افتتاح کروانا تھا عمران خان سے کروانا چاہتے تھے بات طے ہوگی جس میں ہوائی جہاز کا بزنس کلاس کا ٹکٹ کچھ چندا شوکت خانم کو اور کچھ انڈر دی ٹیبل ڈریکٹ عمران کو دیا جائے گا عمران خان آگئے سب کچھ کر دیا گیا اب رانا ریاض الحسن صابر اور عمران خان ٹیبل پر آمنے سامنے بیٹھے تھے عمران خان نے رانا صاحب کو اشارہ کیا انہوں نے پانچ ہزار پونڈ میز کے نیچے سے عمران کو ادا کر دیئے اور یہ چوتیے فرماتے ہیں عمران خان ایماندار ہے آپ کو حیرت ہوگی کہ ایدھی صاحب کے فرزند فیصل کو نہیں پہچانا جب وہ ایک کڑوڑ دینے کے لئے وزیر اعظم ہاوس پہنچے اس واقعہ سے دو باتیں ظاہر ہوتی ہیں نمبر ایک تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ وزیر اعظم سخت دباو میں ہے دوسرا ممکن ہے کہ غرور ابھی تک ختم نہیں ہوا کہ انہوں نے ایدھی صاحب کے فرزند کو نہیں پہچانا اب فیصل بھائی کی اماں جان سے ایک واقعہ ایک مارننگ شو میں بیگم بلقیس ایدھی سے سوال کیا گیا کے اپنی زندگی کا کوئی دلچسپ واقعہ سنایں

ضرور پڑھیں   فرشتہ کے اہل خانہ کو 20 لاکھ روپے کی مالی امداد دینے کی منظوری

بلقیس ایدھی نے ہنستے ہوئے بتایا کے ایک دفع وہ اور ایدھی صاھب ایک پرائیویٹ کار پر سکھر جا رہے تھے ایک شادی پی_ رات کا وقت تھا اندروں سندھ سے گزرتے ہوئے ایک مقام پر کچھ ڈاکو راستے میں آ گے اور ہماری گاڑی روڈ سے اتار کر کچے میں لے گئے وہاں پہلے سے کچھ گاڑیاں کھڑی تھیں اور ڈاکو لوٹ مار میں مصروف تھے

تھوڑی دیر میں ایک ڈاکو ہماری طرف آیا اور ڈرائیور اور ایدھی صاھب کو باہر نکلنے کا کہا ان دونوں کی تلاشی لی اور جیب خالی کرا لی
اچانک اس ڈاکو کی نظر ایدھی صاھب پر پڑی اور غور سے ان کو دیکھنے کے بعد ایک ڈاکو جلدی سے ایک جانب کھڑی جیپ کی طرف گیا اور ایک شخص کے ساتھ فورن واپس آ گیا
اس شخص نے ٹارچ کی روشنی ایدھی صاھب کے چہرے پر ڈالی اور پوچھا آپ عبدالستار ایدھی ہیں جواب ہاں پر ملا تو وہ ڈاکو کا سردار ایک دم پریشان ہو گیا
فوری حکم ہوا کے تمام گاڑیاں جن سے لوٹ مار کی گئی ہے ان کو مال واپس کیا جاۓ اور باقاعدہ طور پر وہ شخص ایدھی صاھب کے ہاتھ چوم کر معافی مانگنے لگا
مزید حیرت کی بات یہ ہوئی کے جب وہ ڈاکو ہمیں رخصت کرنے لگا تو 20 لاکھ روپے بطور چندہ ایدھی صاھب کے حوالے کیا ایدھی صاھب کے انکار پر بولا سر جب میرے جیسے گنہگار پولیس مقابلے میں مارے جاتے ہیں تو ہمارا کوئی رشتے دار ہماری لاش تک نہیں وصول کرتا اور ایدھی ہی ہماری لاش کو کفناتا ہے اور دفناتا ہے ۔۔۔ایک زمانہ تھا ڈاکو بھی آعلیٰ ظرف ہوا کرتے تھے
اب تو یہ زمانہ آ گیا ہے کے کل ایک ڈکیت نے ایدھی صاھب کے بیٹے سے ایک کروڑ کی ڈکیتی بھی مار لی اور ڈاکو عمران خان نے اس کو پہچانا بھی نہیں ۔عمران خان واقعی ڈاکو یا
واقعی زمانہ بہت بدل گیا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں