اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، انڈیکس 5 فیصد بڑھنے پر پہلی بار ٹریڈنگ معطل

کراچی: اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں دو فیصد کمی اور آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کیلیے 1 ارب 38 کروڑ 60 لاکھ ڈالر قرض کی منظوری کے بعد اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی رہی جس کے باعث ٹریڈنگ معطل کرنی پڑی۔

شرح سود میں کمی کے مثبت اثرات جلد ہی نظر آنا شروع ہوگئے اور اسٹاک مارکیٹ میں کاروباری ہفتے کے آخری روز زبردست تیزی رہی۔ 100 انڈیکس میں 1544 پوائنٹس کا اضافہ ہوگیا جس کے نتیجے میں 32 ہزار کی نفسیاتی حد بحال ہوگئی۔

کے ایس ای 30 انڈیکس 5 فیصد بڑھنے پر مارکیٹ میں ٹریڈنگ کو ایک گھنٹے کے لیے معطل کیا گیا۔ پاکستان اسٹاک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ زبردست تیزی کی وجہ سے مارکیٹ کو ہالٹ کرنا پڑا۔

ضرور پڑھیں   بابر اعوان مشیر پارلیمانی امور کے عہدے سے مستعفی

ایک گھنٹے بعد کاروبار بحال ہونے کے بعد بھی اسٹاک مارکیٹ میں بھرپور تیزی کا رجحان برقرار رہا۔ کے ایس ای 100 انڈیکس 33 ہزار کی حد بھی عبور کرگیا اور انڈیکس 1836 پوائنٹس اضافے کے ساتھ33049 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔

واضح رہے کہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹیو بورڈ نے پاکستان کیلیے 1 ارب 38 کروڑ 60 لاکھ ڈالر قرض کی منظوری دیدی ہے جبکہ اسٹیٹ بینک نے بھی شرح سود میں دو فیصد کمی کردی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں