بیدارہونے تک جاوید صدیقی کے قلم سے ،نوائے جنگ

کالم کار: جاوید صدیقی
عنوان:بھارتی صحافی اروند مشرا اور مقبوضہ جموں کشمیر
ڈاکٹر ارشد آرائین نے بھارتی صحافی اروند مشرا کی وہ تحریر یاد دلاکر مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور میں مجبور ہوگیا ہوں کہ بھارتی وہ صحافی جو سچ و حق کے ترجمان ہیں اور وہ بنا خوف بھارت کے اقلیتی قوم بلخصوص مسلمانوِں اور دلیتوں کیساتھ ساتھ بھارتی حکومت کے مقبوضہ کشمیریوں کے حقوق سلب کرنے کے علاوہ کشمیر کو لاک ڈاؤن کے عمل کو انسانیت پر بربریت اور ظلم قرار دیا، انتہا پسند جماعت بی جے پی کے رہنما اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے شیطانیت اور بربریت کی کوئی کسر نہ چھوڑی، آج پوری دنیا بشمول بھارت اور مقبوضہ جموں کشمیر میں پھیلتے موذی مرض کرونا وائرس کے باوجود مقبوضہ جموں کشمیر کے نہتے کشمیریوں پر فوجی یلغار مسلط کیئے ہوئے ہے۔۔۔۔۔معزز قارئین!!
دہلی کے ایک سینئر صحافی اروند مشرا کی تحریر میرے سامنے ہے جو اس نے کشمیر میں جاکر اپنے صحافتی منصب کیساتھ انصاف کرتے ہوئے حقائق پر روشنی ڈالی، وہ لکھتا ہے جب ایک کشمیری لڑکی نے میرے سامنے پوری دنیا کو دُعا دی اور کہا اروند بھائی آپ دیکھنا میری دعا بہت جلد قبول ہو گی۔۔۔۔۔!! یاد رہے یورپین یونین نمائندے بھی ہمارے ساتھ مقبوضہ جموں کشمیر کے صحافتی دورے پر تھے، میں ان صحافیوں میں سے ایک تھا جن کو وہاں جانے اور کوّریج کی اجازت ملی تھی،تب میرا ایک قریبی دوست بلال احمد ڈار جو ماس کمیونی کیشن پی جی کے وقت کا دوست تھا، اس سے ملنے کے لیے اس کے گھر جانے کی صرف پانچ منٹ کی اجازت ملی تھی، بلال کے گھر سے واپسی کے وقت گلی کے نکڑ پر ایک گھر کی کھڑکی سے ایک خاتون کی اواز آئی، “اروند بھائی آپ بلال کے دوست ہونا؟، دہلی والے! بلال آپ کی بہت تعریف کرتا ہے، کہتا ہے اروند بہت سمجھدار انسان ہے، انسانوں کادرد سمجھتاہے۔” میں’نفیسہ عمر ہوں ‘ بلال کی کزن !وقت کی کمی کو سمجھتے ہوئے اس نے جلدی جلدی مجھ سے جو باتیں کہی تھیں وہ سن کر میں کئی دن سو نہ سکا تھا۔نفیسہ نے کہا۔۔ “کسی جگہ پر سات مہینے سے کرفیو ہو،گھر سے نکلنا تو دور، جھانکنا بھی مشکل ہو، چپے چپے پر آٹھ نو لاکھ آرمی تعینات ہو، انٹرنیٹ بند، موبائل بند ہوں، لینڈ لائن فون بند ہو، گھروں سے ہزاروں بے قصوروں کی گرفتاریاں ہوئی ہوں، ساری لیڈر شپ جیل میں ہو، اسکول، کالج، دفتر سب بند ہوں! کیسے زندہ رہیں گے لوگ؟ ان کے کھانے پینے کا کیا ہو گا؟ بیماروں کا کیا ہو گا؟ کوئی ہمارے لیے سوچنے والا بھی نہ ہو، آدھی سے زیادہ آبادی ڈپریشن اور ذہنی بیماریوں کی شکار ہوچکی ہو، بچے خوفزدہ ہوں، مستقبل اندھیرے میں ہو، ظلم و ستم کی انتہا ہو، اور روشنی کی کوئی کرن بھی نہ دکھائی دیتی ہو، کوئی سدھ لینے والا نہ ہو اور ساری دنیا خاموش تماشا دیکھ رہی ہو” نفیسہ روتے ہوئے بولتی رہی”ہم نے سب سہہ لیااور سہہ بھی رہے ہیں لیکن اُس وقت دل روتا ہے، تڑپتا ہے جب یہ سنائی پڑتا ہے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ان کے ساتھ اچھا ہوا، یہی ہونا چاہیے تھا!” “میں نے ان لوگوں کے لیے یا کسی کے لیے بھی کبھی بدعا نہیں کی، کسی کا برا نہیں چاہا بس ایک “دعا” کی ہے تاکہ سبھی لوگوں کو اور ساری دنیا کو ہمارا کچھ تواحساس ہو جائے!” “اوروند بھائی آپ دیکھنا میری دعا بہت جلد قبول ہو گی!” جب میں نے پوچھا “کیا دعا کی بہن آپ نے؟” تو نفیسہ نے پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے جو کہا تھا وہ ہر وقت میرے کانوں میں گونجتا رہتا تھا، شاید اس لیئے کہ میں نے اپنی آنکھوں سے مقبوضہ جموں کشمیر کے دِکھ بھی دیکھ چکا ہوں، اسی لیئے شبد شبد وہی لکھ رہا ہوں، اُس کا درد محسوس کرنے کی کوشش کیجئے گا! نفیسہ نے کہا تھا
“اے اللہ جو ہم پر گزر رہی ہے کسی پر نہ گزرے بس مولا تو کچھ ایسا کردینا، اتنا کردینا کہ پوری دنیا کچھ دنوں کے لیے اپنے گھروں میں قید ہونے پر مجبور ہوجائے، سب کچھ بند ہوجائے، رک جائے! شاید دنیا کو یہ احساس ہوسکے کہ ہم کیسے جی رہے ہیں!” آج ہم سب اپنے اپنے گھروں میں قید ہیں! “اروند بھائی آپ دیکھنا میری دعا بہت جلد قبول ہو گی!” میرے کانوں میں نفیسہ کے وہ شبد ( الفاظ ) آج بھی گونج رہے ہیں۔۔۔۔۔معزز قائین!! یہ دورہ کچھ ہی مہینوں قبل کا ہے، بھارتی شہر دہلی کے سینئر صحافی اروند مشرا اپنے شہر دہلی میں صحافت کے فرائض انجام دے رہے ہیں جبکہ نفیسہ مقبوضہ جموں کشمیر میں اپنی دعا کا اثر دیکھ رہی ہے ۔۔۔معزز قارئین!! عنقریب نفیسہ ابھی آگے بھارتی فوجیوں میں پائے جانے والے کرونا وائرس کی خبر بھی سننے گی کیونکہ الله کے دربار میں شہیدوں غازیوں کی فریاد اور دعائیں بےشمار پہنچیں ہیں، دنیا کے ظالم و جابر ممالک اسرائیل، امریکہ اور بھارت نے انتہا کردی ہے، ہر عروج کوزوال ہے اور ظالم زیادہ عرصے ٹھہرتا نہیں اس کی تباہی اور بربادی اس کا نام و نشان مٹادیتی ہے، اسرائیل اپنے آقا دجال کی آمد کیلئے جس طرح خوشی کیساتھ تیاری اور راہ ہموار کررہا ہے اس کے خاص حواریوں میں امریکہ اور بھارت پیش پیش ہے یقینا دنیا کی پیشگوئی میں تحریر ہے کہ اسرائیل سے قبل بھارت اور امریکہ نیست و نابود ہوجائیں گے جبکہ مردود دجال کو جہنم رسید کرنے کیلئے حضرت عیسی علیہ السلام نبی کریم ﷺ کی امتی کے حیثیت سے نمودار ہونگے۔۔۔۔ معزز قارئین!! یہ بھی حقیقت ہے کہ آج کا مسلمان اپنی راہ سے بھٹکا ہوا ہے اور وہی لوگ الله کے عزاب اور غضب سے بچیں گے جو خوف خدا کیساتھ ساتھ خشوع و خضوع کے ساتھ الله کے احکامات کی پیروی کررہے ہونگے یاد رہے بھٹکے ہوئے انسان اس کرونا وائرس کا شکار بنیں گے، معاشی و جانی قاتل الله اور اس کے حبیب ﷺ کو شدید ناپسند ہیں، الله ہمارے دانستہ غیر دانستہ گناہوں کی معافی فرمائے اور ہم سب کو ہر موذی امراض سے محفوظ کرے آمین ثما آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں