دھرنا ایک سازش

Spread the love

تجزیہ آصف سلیم مٹھا

جاپان میں بس کنڈیکٹرز نے حکومت کے سامنے مطالبات پیش کئے حکومت نے ماننے میں تاخیر کر دی بس کنڈیکٹرز نے مسافروں سے کرایہ لینا بند کر دیا اگلے روز حکومت نے تمام مطالبات مان لئے ملینیم صدی کے آغاز میں سابق روسی ریاست کرغزیہ کرغستان میں صدر اسکر جیسے ہم اصغر کہتے ہیں کے خلاف ہکلے پھلکے مظاہرے شروع ہوئے اور پانچ سال بعد 2005 کو آخر کار ایک طاقتور ملک نے مظاہرین میں بیس بیس ڈالر کے نوٹ تقسیم کئے اور مظاہرین کو کرغزیہ کے ایوان پر دھاوا بولنے کا کہہ دیا آخر کار اسکر اکایئف 11 اپریل 2005 کو ایک خصوصی معاہدے کے تحت ماسکو چلے گئے 1977 میں بھٹو نے جلد بازی میں انتخابات کروا دئیے نتائج PNA پاکستان نیشنل الائنس نے ماننے سے برملا انکار کردیا پی این اے نو ستارے کہلواتے تھے ینعی کہ اس دور کی نو سیاسی جماعتوں کا اتحاد یا دو تانگوں کی سواریاں کہہ لیں ہنری کسنجر اور بھٹو کی چپکلش کی باتیں تو سب جانتے ہیں سی آئی اے نے موقع بہتر جانتے ہوئے نو ستارے جو دین اور اسلام کا نعرہ لگا کر میدان میں اتر گئے ان پر ڈالروں کی بارش کر دی ملک بھر میں مطالبات خون ریز ہنگاموں میں تبدیل ہو گئے ہر قسم کی سرکاری و نجی املاک کو بُری طرح نقصان پنچایا گیا امریکہ ضیا کی آپس میں کچھ نہ کچھ بات طے ہوگئی اس کے باوجود 4 جولائی 1977 کی ایک شام جسکا احتتام اس بات ہوا کہ 5 جولائی کو پی این اے اور بھٹو آپس میں طے شدہ معاہدے کو پریس کے سامنے کھول کر بیان کریں گے جیسے ہی سب سیاسی رہنما اپنے اپنے ڈیروں پر پہنچ گئے تو جنرل ضیاالحق نے ٹرپل ون کور کو چوکس کر کے ملک پر ایک سیاہ رات کا آغاز کر دیا نو ستاروں سے اسلام کی ٹوپی چھین کر خود پہن لی کچھ سالوں بعد امریکہ سے کچھ خفیہ دستاویزات چوری ہوں گئیں تو بین الااقوامی اخبارات کے زریعہ پتا چلا کہ بھٹو کے خلاف دراصل تحریک اسلامی علماء نے نہیں بلکہ امریکہ نے چلوائی تھی اس کے بعد کئی سالوں بعد بھیک میں دی ہوئی جمہوریت کا چراغ اپنے ہاتھوں گل کر کے جنرل صاحب بستی لال کمال میں ہزاروں ٹن تیل سے لگی آگ میں راکھ بھی نہ بن سے نواز شریف اور بے نظیر کا ظہور ہوا ایک دوسرے کے خلاف اس وقت دھرنے نہی لانگ مارچ کیا کرتے تھے جسکی جہاں طاقت ہوتی وہ لانگ مارچ کو ڈانگ مارچ بنا دیتا اسی کشمکش میں 12 اکتوبر 1999 کی سہ پہر جنرل مشرف نے ایک ڈرامائی انداز میں ملک پر قبضہ کر لیا جبکہ بلو فائیلز سے پتہ چلتا ہے کہ افواج ِ پاکستان جنرل مشرف سے مارشل لا ء نہی چاہتی تھی اسی لئے پرویز کو مجبوراًً چیف ایگزیکٹو بننا پڑا تھا جنرل مشرف سے قوم نے اُمیدیں باندھ لیں کہ وہ ملک کو چوروں سے پاک کریں گے کڑا احتساب ہوگا مگر یہ ایک سہانے خوآب کی دردناک تبیر ثابت ہوئی جنکو پاناما لیکس میں چور بنا کر آج حکومت سے نکالا گیا انہی کو مشرف نے چالیس بڑے بڑے بکسوں کے ساتھ ایک خصوصی جہاز میں جیل سے سرور محل میں بھیج دیا گیا ن سے ق لیگ بنائی گئی چھوٹے موٹے چوروں سے مل ملا کر جنرل مشرف نے ایک حکومت کھڑی کر دی انہیں نہی علم تھا کہہ جنرل قیوم انکے تابوت میں ایک کیل ثابت ہونگے شوکت عزیز نے پیسے بنانے کے محلول تیار کئے سٹیل ملز کے سودے کی اطلاع افتخار چوہدری کو فیکس کردی سوموٹو لیا گیا تو نام نہاد ایوان وزیر ِ اعظم اور طاقت کےسرچشمہ ایوان ِ صدر میں بھگ دھڑ مچ گئی انصاف اعلیٰ کے منتظم کو حاضر کر کے ایک چارج شیٹ تھما دی گئی کہ آپ گھر جائیں پرویز مشرف کے آس پاس کے حالات انکو ناپسند کرنے لگے تھے کیونکہ پہلی بار بطور ریاست پاکستان نے امریکہ سے سڑائجک تعلقات میں خاموشی سے یو ٹرن لیا تھا جو پرویز مشرف نہیں چاہتے تھے بہرحال چوہدری افتخار پر نواز شریف نے ایک معروف وکیل کے زریعہ ہاتھ رکھ دیا نواز شریف کے مرحوم بھائی عباس شریف اور کچھ افراد کے درمیان یہ گفتگو بھی ہایک کی گئی کہ نواز شریف مشرف کے خلاف وکلا کو تمام تر اخراجات مہیا کریں گے لنچ ڈنر بے بہا ملے گا وکلا کا اسلام آباد والا دھرنا مشرف کے استعفیٰ تک تھا مگر ایک جنرل صاحب کا جب اعتزاز احسن کو فون آیا کہ مشرف بس گھر چلیں جائیں گے آپ بھی دھرنا ختم کر دیں آپ نے دیکھا پھر وہ وکلا آپس میں کیسے ٹوٹ گئے مشرف کو گھر بھیجنے کے لئے آصف علی زرداری کو کلیر لاِین دی گئی خیر مشرف کو واقعی گھر بھیج دیا گیا اب حکومت پی پی پی کی اور دوستانہ حزب ِ مخالف جماعت ن لیگ شائد آپس میں طے پا چکے کہ پاکستان کو پاکستان نہی رہنے دینا اور 18 ویں ترمیم پاس کر دی گئی 2013 میں طے شدہ معاہدے کے مطابق انتخابات ہوئے نواز شریف آ گئے اور تین سال بعد پاناما لیکس آگئی تحقیقات شروع ہو گئیں اب سازش فوج کے خلاف شروع ہوگئی جس کے تحت مریم نواز اور پرویز رشید نے ڈان لیکس جیسا کارنامہ سر انجام دیا اب لڑائی نواز شریف اور افواج کے پاکستان کے درمیان شروع ہو چکی تھی جسکا اندازہ آپ ن لیگ کے سرکردہ رہنماوں کی زبانی سن چکے ہیں ،،2013 ہی عمران خان کا سال تھا ن لیگ مایوس تھی مگر جنرل کیانی نے ماڈل ٹاون میں نواز شریف کے ساتھ ظہرانہ کر کے نوید پہنچائی پانامہ لیکس آگئی عمران خان کی لاٹری لگ گئی انکے خطابات اور چھوٹے موٹے جلسے اب دھرنے کی صورت اختیار کر گئے 2018 کے انتخابات میں لولی لنگڑی سیٹو کے ساتھ جمہوریت کھڑی کر دی گئی مگر جزبہ جوان تھا احتساب کا عمل شروع ہوا خزانہ خالی تے اللہ بیلی عمران خان نے بیڑا تو اٹھا لیا مگر مافیا انکے خلاف سرگرم ہو گیا اس مافیا میں سب شامل ہیں اب یک دم نواز شریف اور زرداری جیل سے ہسپتال پہنچ گئے ہیں کیونکہ مولانا فضل صاحب انکے پرانے متمنی ہیں انہوں ریاست کو ڈنڈے سوٹے چمکا کر لکارا ہے ریاست ہندوستان سے جنگ کی حالت میں ہے مگر مولانا نواز شریف اور زرداری کے مال پر کھڑے ہو کر اکڑ رہے ہیں یہ کشمیر آزادی دھرنا نہی بلکہ یہ عمران سے آزادی حاصل کرنے کا دھرنا ہے اور اس دھرنے کے مطالبات زور پکڑتے جائیں گئے خون خرابہ بھی ہو سکتا ہے نواز شریف باہر جا سکتے ہیں اور شہباز شریف وزیرِاعظم بن سکتے ہیں اگر یہ ایوان قائم رہا تو ورنہ نئے انتخابات اور پھر عمران خان زیادہ طاقت میں اقتدار حاصل کر سکتے ہیں دیکھنا یہ ہے کہ بادشاہ سلامت کیا چاہتے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں