زندگی میں کبھی ہیروئن نہیں دیکھی. رانا ثناءاللہ

Spread the love

لاہور(ویب ڈیسک) مسلم لیگ نون کے رہنما رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ سیف سٹی کے ریکارڈ نے میرے موقف کو درست ثابت کیا ہے کہ ٹول پلازہ پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی، میں نے کبھی زندگی میں ہیروئن نہیں دیکھی، شہریار آفریدی کو قوم سے معافی مانگنی چاہیے. لاہور میں انسداد منشیات کی خصوصی عدالت میں پیشی کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگ نون کے رہنما رانا ثنا اللہ نے کہا کہ یہ لوگ بتائیں موقع پر کہاں برآمدگی ہوئی، ساری کارروائی تھانے جاکر فرضی کی گئی‘رانا ثنا نے کہا کہ میں نے کبھی زندگی میں ہیروئن نہیں دیکھی، نہ کبھی سگریٹ پیا، خود یہ لوگ وزیر اعظم ہاﺅس میں بیٹھ کر نشے کرتے ہیں.

ضرور پڑھیں   عدالت پیشی؛ نواز شریف کی جیل سے باہر کی چائے پینے کی خواہش پوری نہ ہوسکی

انہوں نے کہا کہ مجھے سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور اگر کسی ادارے کے آفیشلز کسی سازش کا حصہ بنے ہیں تو یہ بدقسمتی ہے‘ایک سوال کے جواب میں نون لیگی رہنما رانا ثنااللہ نے بتایا کہ اطلاع ملی ہے پارٹی مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ میں شرکت کرے گی، کارکن پارٹی کے فیصلے کی روشنی میں آزادی مارچ میں بھر پورشرکت کریں. دریں اثناءسابق صوبائی وزیر راناثنااللہ کو انسداد منشیات کی خصوصی عدالت میں پیش کیا گیا‘ جیل حکام نے جوڈیشل ریمانڈ مکمل ہونے پر ملزم کو پیش کیا .

گزشتہ سماعت پر وکلاصفائی نے سیف سٹی کیمروں کی فوٹیج کی استدعا کی تھی، رانا ثنااللہ 15 کلو منشیات برآمدگی کے الزام میں گرفتار ہیں، اسپیشل سینٹرل جج خالد بشیر کیس کی سماعت کررہے ہیں. خیال رہے کہ رانا ثنا اللہ کو یکم جولائی کو انسداد منشیات فورس نے اسلام آباد سے لاہور جاتے ہوئے موٹر وے سے حراست میں لیا تھا رانا ثنا اللہ کی گاڑی سے بھاری مقدار میں ہیروئن برآمد ہوئی تھی.

ضرور پڑھیں   نیوزی لینڈ پارلیمنٹ اجلاس کا تلاوت کلام پاک سے آغاز

اے این ایف نے بتایا تھا کہ رانا ثنا کی گاڑی کے ذریعہ منشیات اسمگلنگ کی انٹیلی جنس اطلاع پر کارروائی کی گئی، گرفتاری کے وقت رانا ثنا کے ساتھ گاڑی میں ان کی اہلیہ اور قریبی عزیز بھی تھا. اے این ایف ذرائع کے مطابق ایک گرفتار اسمگلر نے دوران تفتیش رانا ثنا اللہ کی جانب سے منشیات اسمگلنگ میں معاونت کا انکشاف کیا تھا‘ذرائع کا کہنا تھا کہ رانا ثنا کے منشیات فروشوں سے تعلقات اور منشیات کی اسمگلنگ سے حاصل شدہ رقم کالعدم تنظیموں کو فراہم کرنے کے ثبوت ہیں، رانا ثنا اللہ کے منشیات فروشوں سے رابطوں سے متعلق 8 ماہ سے تفتیش کی جارہی تھی.

اپنا تبصرہ بھیجیں