37

امریکا نے ‘ایف 35’ طیارے نہ دیئے تو کیا ہوا؟ترکی نے متبادل حکمت عملی کا اعلان کردیا

Spread the love

انقرہ: ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ ان کا ملک کسی بھی دوسرے ملک سے جنگی طیارے خرید کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر امریکا نے ‘ایف 35’ طیارے نہ دیئے تو روس کے ‘SU-35 اور ‘SU-57’ طیارے خریدنے کے لیےماسکو سے بات کی جاسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں ستمبر میں جنرل اسمبلی میں نیویارک میں ہونے والے جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔ایک سوال کے جواب میں صدر طیب ایردوآن نے کہا کہ اگر امریکا نے ‘ایف 35’ طیاروں کے حوالے سے موجودہ موقف تبدیل نہ کیا تو ترکی کسی دوسرے ملک سے طیاروں کی ڈیل کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ روسی طیارے ‘SU-35’ اور ‘SU-57’ کے بارے میں ماسکو کے ساتھ بات چیت کی جا رہی ہے۔ ہم اپنے دفاع اور دفاعی صنعت کی ضرورت کیلیے ہر ملک سے بات کریں گے۔

ضرور پڑھیں   سوڈان میں فوج نے 30 سال سے برسراقتدار صدر عمر البشیر کا تختہ الٹ دیا

خیال رہے کہ جولائی میں امریکا نے اس وقت ترکی کو ‘ایف 35’ جنگی طیاروں کی فروخت روک دی تھی۔ یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب ترکی نے روس کا دفاعی نظام ‘ایس 400’ خرید کیا تھا۔امریکا نے زیر تربیت ترک ہوابازوں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔ واشنگٹن نے ترکی کے ساتھ ‘ایف 35’ طیاروں کی ڈیل منسوخ کرتے ہوئے ترکی کو اس پروگرام سے الگ کر دیا تھا۔ ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ ان کا ملک کسی بھی دوسرے ملک سے جنگی طیارے خرید کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر امریکا نے ‘ایف 35’ طیارے نہ دیئے تو روس کے ‘SU-35 اور ‘SU-57’ طیارے خریدنے کے لیے ماسکو سے بات کی جاسکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں