66

نیب کا سیاسی تعلق ثابت ہوا تو استعفیٰ دے دوں گا، چیئرمین نیب

Spread the love

اسلام آباد: چیئرمین نیب کا کہنا ہے کہ مہینوں سے برسراقتدار رہنے والوں کا بھی احتساب ہورہا ہے لیکن 35 سال سے برسراقتدار رہنے والوں کا حساب پہلے ضروری ہے۔

اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ نیب کسی بھی قسم کی سیاسی انتقام پر یقین نہیں رکھتی، نیب یکطرفہ کارروائیاں کر رہی ہے تو ثابت کریں، اگر آپ نے کرپشن کی ہے تو نیب کارروائی کرے گا، کیا نیب نے کبھی ارکان پارلیمنٹ یا سیاستدانوں سے ملاقات کی، لوگوں کی نیب کو سیاست زدہ قرار دینے کی کوشش ناکام ہوئی اور جس سے ملاقاتیں ثابت ہو جائیں استعفیٰ دے دوں گا۔

چیئرمین نیب نے کہا کہ چند اراکین پارلیمنٹ کے خلاف نیب کے کیسز رجسٹرڈ ہیں، شہادتیں موجود ہوں تو کیا نیب آنکھیں بند کر لے، کروڑوں اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کی گئی ہے، وقت آنے پر عدالت میں منی لانڈرنگ کے ثبوت پیش کریں گے، پروڈکشن آرڈر پر باہر آنے والے کہتے ہیں سیاسی انتقام لیا جا رہا ہے، چند لوگوں کو اکٹھا کرکے وکٹری کا نشان بنانے سے آپ بے قصور ثابت نہ ہو سکتے جب کہ بیوروکریسی اپنا کام ٹھیک کرے تو نیب آپ کی طرف کیوں دیکھے گی لیکن جو کرے گا وہ بھرے گا یہ نیب کی پالیسی ہے۔
جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کا کہناتھا کہ ہمارے پاس شواہد موجود ہیں کروڑوں اور اربوں کی منی لانڈرنگ کچھ لوگ کہتے ہیں نیب کو ختم کر دینا چاہیے، نیب کو ملنے والا ایک ایک پیسہ جائز کام پر خرچ ہوتا ہے، بجٹ کی شکل میں ملنے والے پیسے قوم کی امانت ہیں، جو نیب پر خرچ ہو رہا ہے نیب اس سے کئی گنا واپس لوٹا رہا ہے، نیب اس وقت خزانے میں 326بلین کی رقم جمع کرا چکا ہے، کرپشن کا حساب نہ لیا جائے تو نیب خود مجرم ہے، نیب کی وجہ سے آج لوگوں کو ان کی رقوم مل رہی ہیں۔

چیئرمین نیب نے کہا کہ ملک کو لوٹنے والوں کو کوئی چھوٹ نہیں دی جائے گی، نیب کے نزدیک سب برابر ہیں چاہے وہ برسر اقتدارہیں یا نہیں، مہینوں سے برسراقتدار کا بھی احتساب ہورہا ہے لیکن 35 سال سے برسراقتدار رہنے والوں کا حساب پہلے ضروری ہے، ہم نے فیس نہیں کیس دیکھا ہے، شہادتیں نہیں ملیں تو کیس داخل دفتر کردیا گیا لیکن جن کے پاس موٹرسائیکل تھی ان کی دبئی میں جائیداد نکل آئے تو کیا نیب ان سے نہ پوچھے، ملزم کے ہاتھ جتنے چاہے لمبے ہوں قانون سے لمبے نہیں، ماضی میں لیے گئے 100 ارب ڈالرذاتی طور پر خرچ کیے گئے اور اگر 100 ارب ڈالرز خرچ ہوئے ہوتے تو اسپتالوں،درسگاہوں کی حالت بدلی ہوئی ہوتی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں