42

بجٹ منظور نہیں ہونے دیں گے، شہباز شریف، فضل الرحمان اور بلاول کا اتفاق

Spread the love

اسلام آباد: مسلم لیگ (ن) کے صد شہباز شریف، جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے بجٹ منظور نہ ہونے دینے پر اتفاق کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ بجٹ آئی ایم ایف کے نمائندوں نے بنایا ہے جو عوام اور ملک دشمن ہے۔

اسلام آباد میں اپوزیشن رہنماوں کی بڑی بیٹھک ہوئی جس میں حکومت مخالف تحریک چلانے کے لیے صلاح و مشورے کیے گئے۔ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری نے وفود کے ہمراہ مولانا فضل الرحمان سے الگ الگ ملاقاتیں کیں جن میں حکومت مخالف تحریک اور اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس کے حوالے سے مشاورت کی گئی۔

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی، ملاقات میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال، اپوزیشن رہنماؤں کی گرفتاریوں اور بجٹ کے حوالے سے بات کی گئی جب کہ حکومت مخالف تحریک کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
حکومت کا خاتمہ ہی موجودہ صورتحال سے نجات کا ذریعہ ہے،فضل الرحمان

ملاقات کے بعد جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے ملکی معیشت کا بیڑا غرق کیا، پاکستان کی تاریخ میں اتنے قرضے نہیں لیے جتنے اس حکومت نے لے لئے، ڈالرکی قیمت 157 چلی گئی ہے، غریب شہری آج بازار سے راشن خریدنے کے قابل نہیں رہا، حکومت کا خاتمہ ہی موجودہ صورتحال سے نجات کا ذریعہ ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ موجودہ بجٹ ملک اور غریب دشمن ہے جسے براہ راست آئی ایم ایف نے یہاں آ کر بنایا ہے، اور ہمیں معاشی غلام بنا دیا گیا، اس بجٹ کے بعد عوام راشن بھی خریدنے کے قابل نہیں رہے گا، ایک جعلی اور دھاندلی شدہ الیکشن پر ہمارا پہلے دن جو موقف تھا آج بھی وہی ہے، یہ لوگ ملک پرحکومت کرنے کا کوئی جوازنہیں رکھتے، آج ملاقات میں اپوزیشن کی حکومت مخالف تحریک اور اے پی سی پر مشاورت ہوئی، جون کے آخری عشرے میں اے پی سی کریں گے اوراسی کے فیصلوں کی روشنی میں اپنا لائحہ عمل طے کریں گے اور ایک متفقہ بیانیہ لےکرپارٹیاں میدان میں آئیں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں