69

عمر قید كا مطلب تاحیات قید ہوتا ہے، چیف جسٹس آف پاکستان

Spread the love

اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاكستان آصف سعید كھوسہ كا كہنا ہے كہ عمر قید كا یہ مطلب نكال لیا گیا ہے کہ عمر قید 25 سال قید ہے جب کہ اس قانون كی یہ تشریح غلط ہے اور عمر قید كا مطلب تاحیات قید ہوتا ہے۔

سپریم كورٹ میں قتل كے ملزم عبدالقیوم كی سزائے موت كے خلاف نظر ثانی درخواست پر سماعت ہوئی، چیف جسٹس آصف سعید كھوسہ كی سر براہی میں بینچ نے ملزم عبدلقیوم كی سزائے موت برقرار ركھتے ہوئے نظر ثانی درخواست خارج كردی۔

دوران سماعت چیف جسٹس آصف سعید كھوسہ نےعمر قید سے متعلق ریماركس دیتے ہوئے كہا كہ عمر قید كا یہ مطلب نكال لیا گیا ہے کہ عمر قید 25 سال قید ہے در حقیقت عمر قید كا یہ غلط مطلب لیا جاتا ہے، عمر قید كا مطلب ہوتا ہے تاحیات قید، كسی موقع پر عمر قید كی درست تشریح كریں گے، اگر ایسا ہو گیا تو پر دیكھیں گے کہ كون قتل كرتا ہے اور ایسا ہوا تو اس كے بعد ملزم عمر قید كی جگہ سزائے موت مانگیں گے۔
چیف جسٹس كا مزید كہنا تھا كہ بھارت میں جس كو عمر قید دی جاتی ہے اس كے ساتھ سالوں كا تعین بھی كیا جاتا ہے، بھارت میں اگر كسی مجرم كو عمر قید دی جاتی ہے تو اس كے ساتھ لكھا جاتا ہے كہ مجرم 30 سال یا كتنے سال سزا كاٹے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں