58

مردوں کی زبردستی شادیوں میں ریکارڈ اضافہ، خواتین کے بعد مرد بھی بیچارگی کی تصویر بن گئے

Spread the love

لندن: جبری شادیوں کو عموماً غریب اور ترقی پذیر ممالک کا مسئلہ سمجھا جاتا ہے اور لڑکیاں اس کا زیادہ نشانہ بنتی ہیں لیکن اب برطانوی اعدادوشمار سے ایسا ہوشربا انکشاف ہوا ہے کہ سن کر آدمی دنگ رہ جائے کہ ایسے ترقی یافتہ اور امیر ملک میں بھی ایسا کچھ ہو سکتا ہے۔ سکائی نیوز کے مطابق برطانوی حکومت کی طرف سے جبری شادیوں کی روک تھام کے لیے ایک سپیشل یونٹ ’Forced Marriage Unit‘ بنایا گیا ہے جس نے رواں سال اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ 2018ءمیں برطانیہ میں جبری شادیوں کے 1764واقعات ہوئے جو 2017ءکی نسبت 47فیصد زیادہ تھے اور ان واقعات میں صرف لڑکیوں ہی کو نہیں بلکہ واضح تعداد میں لڑکوں کو بھی ان کی مرضی کے خلاف شادی پر مجبور کیا گیا۔ ان 1764واقعات میں 297لڑکوں کی جبری شادیاں کروائی گئیں۔

برطانیہ میں ایسے واقعات عموماً ان خاندانوں میں پیش آتے ہیں جو دیگر ممالک سے آ کر برطانیہ مقیم ہوئے اور برطانوی شہریت حاصل کی تاہم 2018ءمیں 7فیصد واقعات خالصتاً ان گھروں میں پیش آئے جو خالصتاً برطانوی شہری اور گورے تھے۔جبری شادی کے متاثرہ لڑکوں میں ایک کا نام عمران تھا جس کے خاندان نے اسے آبائی ملک پاکستان میں مقیم اس کی فرسٹ کزن کے ساتھ شادی پر مجبور کیا اور انکار کرنے پر قتل کی دھمکیاں دیں۔

عمران کا کہنا تھا کہ ”میری ماں نے مجھے ایک دن کہا کہ وہ مجھے چھٹیوں پر پاکستان لیجا رہے ہیں۔ میں بھی خوشی خوشی تیار ہو گیا لیکن پاکستان جا کر پتا چلا کہ وہ مجھے وہاں میری شادی کرنے کے لیے لے گئے تھے۔ میں نے ان کی منت سماجت کی کہ وہ میرے ساتھ ایسا نہ کریں لیکن میری ماں نے کہا کہ اگر میں اپنی فرسٹ کزن کے ساتھ شادی نہیں کروں گا تو میری دادی نے میرا پاسپورٹ چھپا دیا ہے اور وہ مجھے واپس برطانیہ کبھی نہیں جانے دے گی۔“رپورٹ کے مطابق عمران کے والدین نے اس کی جبری شادی کروا دی لیکن چند سال بعد ہی اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور اب برطانیہ میں اپنے خاندان سے بھی الگ رہ رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں