76

مغربی ممالک میں نو مولود بچے کم وزن کے ساتھ کیوں پیدا ہونے لگے؟ جان کر پاکستانی خواتین بھی یہ غلطی نہ کریں گی

Spread the love

لندن : ترقی پذیر اور غریب ملکوں میں ماﺅں کو مناسب غذا اور علاج نہ ملنے کے باعث ان کے ہاں کم وزن اور کمزور بچے پیدا ہوتے ہیں۔ تاہم حالیہ چند سالوں میں برطانیہ جیسے امیر ملک میں بھی کم وزن بچوں کی پیدائش کی شرح حیران کن حد تک بڑھ چکی ہے۔ اب سائنسدانوں نے اس کی حیران کن وجہ بھی بتا دی ہے۔ میل آن لائن کے مطابق سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ”برطانیہ سمیت دیگر مغربی معاشروں میں خواتین زیادہ عمر میں جا کر بچے پیداکرنے کو ترجیح دینے لگی ہیں۔ چنانچہ ماﺅں کی عمر کا زیادہ ہونا ان کے بچوں کی صحت پر انتہائی منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ برطانیہ میں کم وزن بچے پیدا ہونے کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے۔“

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت برطانیہ میں ترکمانستان، کیوبا اور البانیہ جیسے ترقی پذیر ممالک کی نسبت زیادہ کم وزن بچے پیدا ہو رہے ہیں۔ 2015ءمیں برطانیہ میں پیدا ہونے والے 56ہزار بچوں کا وزن پیدائش کے وقت2.4کلوگرام سے بھی کم تھا۔ بچوں کی یہ تعداد 2015ءمیں برطانیہ میں پیدا ہونے والے کل بچوں کا 7فیصد تھی۔ اسی سال ترکمانستان میں کم وزن بچے پیدا ہونے کی شرح 5فیصد، کیوبا میں 5.3فیصد اور البانیا میں 4فیصد رہی، جو کہ برطانیہ کی نسبت کہیں کم تھی۔واضح رہے کہ طبی ماہرین کے مطابق پیدائش کے وقت بچے کا وزن 3.6کلوگرام کے لگ بھگ ہونا چاہیے۔ اگر بچے کا وزن 2.6کلوگرام یا اس کم ہو تو اسے کم وزن تصور کیا جاتا ہے۔

تحقیقاتی ٹیم کی سربراہ ڈاکٹر ہینا بلینکوے کا کہنا تھا کہ ”جو بچے کم وزن پیدا ہوتے ہیں انہیں کھلانے پلانے میں دقت آتی ہے اور ایسے بچے آگے چل کر بھی کم وزن ہی رہتے ہیں۔ انہیں انفیکشنز اور دیگر بیماریاں زیادہ لاحق ہوتی ہیں، بالخصوص انہیں سانس کے مسائل زیادہ لاحق ہوتے ہیں۔ جوں جوں ان کی عمر زیادہ ہوتی جاتی ہے انہیں شوگر اور دل کی بیماریاں لاحق ہونے کا خطرہ بھی بڑھتا جاتا ہے۔ غریب ملکوں میں کم وزن بچے پیدا ہونے کی وجہ غذائی قلت اور علاج کی کمیابی کے باعث ماں کے پیٹ میں ان کی نشوونما نہ ہونا ہے لیکن امیر ملکوں میں اس کی سب سے بڑی وجہ خواتین کا زیادہ عمر میں جا کر بچے پیدا کرنا ہے۔“

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں