57

راولپنڈی سے بھی پاکستانی بیٹیوں کی زندگیوں سے کھیلنے والا چینی گینگ گرفتار

Spread the love

اسلام آباد: لاہورکے بعد راولپنڈی سے بھی پاکستانی بیٹیوں کی زندگیوں سے کھیلنے والا چینی گینگ گرفتارکرلیا گیا ہے جب کہ ایف آئی اے نے چینی لڑکوں سے غیرقانونی شادیوں اورجنسی طورپرہراساں کرنے کے معاملے سے متعلق رپورٹ ڈی جی کوبھجوا دی۔

لاہورکے بعد راولپنڈی سے بھی پاکستانی لڑکیوں کی زندگیوں سے کھیلنے والا چینی گینگ پکڑلیا گیا۔ ایف آئی اے نے چھاپہ مارکر چینی گینگ کے لیڈرسمیت 7 افراد گرفتارکرلیے ہیں، گرفتارافراد میں3 چینی شہری بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب ایف آئی اے نے لاہور، فیصل آباد سمیت دیگرشہروں سے گرفتار چینی لڑکوں کی پاکستانی عیسائی لڑکیوں سے شادی کی رپورٹ ڈی جی ایف آئی اے کوارسال کردی۔ ایف آئی اے ذرائع کے مطابق اب تک کی تحقیقات میں ایک نہیں دو نہیں بلکہ سیکڑوں لڑکیوں کی شادیاں سامنے آئی ہیں جن میں سے اکثریت کے ساتھ فراڈ ہی ہوا ہے، شادی کرانے والوں نے کرسچن میرج قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کی گئی ہیں۔
کرسچن میرج قوانین کے مطابق شادی سے پہلے متعلقہ چرچوں میں باقاعدہ شادی کے حوالے سے تفصیلی اعلانات مسلسل 3 اتواروں کو ہوتے ہیں تاکہ اگر کسی کو اعتراض ہے تو بتائے پھر چوتھے اتوار کو شادی ہوتی ہے اوراس کے لیے بھی لڑکے لڑکی کا کرسچن ہونا لازمی ہے اورمتعلقہ چرچ کی طرف سے سرٹیفکیٹ بھی جاری ہوتے ہیں مگرسرٹیفکیٹ بھی جعلی بنوائے گئے ہیں اوریہ کام بھی متعلقہ چرچوں کی انتظامیہ کے ساتھ ملی بھگت کرکے کیا گیا ہے۔

ضرور پڑھیں   این اے 53 سے عمران خان کے کاغذات نامزدگی چیلنج

ایف آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم نے اس حوالے سے متعلقہ گرجوں کی انتظامیہ سے ریکارڈ طلب کیا ہے جبکہ گرفتارپاکستانی ایجنٹوں نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ وہ لڑکی کے والدین کو 5 سے 10 لاکھ روپے تک ادا کرتے ہیں جب کہ شادی کے تمام اخراجات چینی لڑکوں کی طرف سے کیے جاتے، کچھ شادیوں میں شادی کے بعد بھی لڑکی کے والدین کوماہانہ 20 سے 30 ہزار روپے دیے گئے ہیں۔

اب تک کی تحقیقات میں لاہورمنڈی بہاوالدین، فیصل آباد، پتوکی، ساہیوال سمیت دیگرشہروں کی لڑکیوں کے شادی کے کیس سامنے آئے ہیں۔ ایف آئی اے کے ذرائع نے انکشاف کیا کہ یہ گروہ پورے پاکستان میں کام کررہا ہے اوریہ شادیوں کا سلسلہ گزشتہ 3 ، 4 سال سے جاری ہے۔ ایف آئی اے کی کارروائی کے بعد کچھ گروہ کے اہم افراد روپوش ہوگئے ہیں اورجو بطورترجمان کام کرتے ہیں ان کی تعداد بھی درجنوں میں ہے۔ ایف آئی اے کے تفتیشی افسران کے مطابق انہوں نے قانون کے مطابق کاروائی کی ہے اور اس حوالے سے رپورٹ ڈی جی کو بھجوا دی گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں