124

سعودی عرب میں شاعر مشرق ڈاکٹر محمد اقبال کی 81 ویں برسی کےموقعہ پر ادبی تنظیم حلقہ فکروفن کی جانب سے محفل مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا ریاض سعودی عرب سے ثناء بشير نمائیندہ نوائے جنگ لندن

Spread the love

ریاض ) ثناء بشير نمائیندہ نوائے جنگ لندن (سعودی عرب میں شاعر مشرق ڈاکٹر محمد اقبال کی 81 ویں برسی کےموقعہ پر ادبی تنظیم حلقہ فکروفن کی جانب سے محفل مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا جس میں شعراء کرام نے علامہ اقبال کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا اور انکا کلام بھی پڑھا دارالحکومت ریاض میں حلقہ فکروفن کی جانب سے مخدوم امین تاجر کے کاشانہ ادب کے ہاں ادبی نشست کا اہتمام کیا گیا جس کی صدارت ڈاکٹر محمود باجوہ جبکہ حافظ عبدالوحید فتح محمد کو بطور مہمان خصوصی مدعو کیا گیا تھا اس موقعہ پر شعراء کرام نے قومی شاعر ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ علامہ کی شاعری نے برصغیرکے مسلمانوں خواب غفلت سے بیدار کرکے نئی منزلوں کا پتہ دیا، فلسفیانہ اور مفکرانہ سوچ دوراندیشی جیسی سوچ نے اقبال کی شاعری کو اس طرح نکھارا کہ جس کی دوسری کوئی نظیر نہیں ملتی، جس سے مسلمانوں کے درمیان آزادی کی تڑپ نے جنم لیا اور اقبال نے پاکستانی ریاست کا خواب دیا جسے پاکستان کی صورت میں شرمندہ تعبیر کر لیا گیا مشاعرے میں شریک شرکاء کا کہنا تھا کہ علامہ اقبال کی شاعری ہمارے لئے مشعل راہ ہے لہذاہ اس سے استعفادہ حاصل کرتے ہوئے موجودہ طور میں بھی نئی منزلوں کا تعین کیا جا سکتا ہے اور پاکستان کو ترقی کی نئی منازل کی جانب لیکر جایا جاسکتا ہے اس موقعہ پر مہمان خصوصی حافظ عبدالوحید نے کہا کہ علامہ اقبال اردو اور فارسی زبان کے ایک ایسے شاعر ہیں جن کا شمار دنیا کے عظیم شاعروں میں کیا جاتا ہے ۔ ان کی شاعری روح کو تڑپانے والی اور قلب کو گرمانے والی شاعری ہے ۔ ان کے یہاں ایک فلسفہ ہے ایک درس اور پیغام ہے ۔ ان کی شاعری ایک مخصوص فکری و تہذیبی پس منظر میں سانس لیتی ہے ۔ وہ ایک غیر معمولی فہم و ادراک اور شعور و بصیرت رکھنے والے شاعر تھے ۔ علامہ اقبال نے ایک ایسے دور میں شاعری کی ابتداء کی جب ہندوستانی برطانوی حکومت کے زیر اقتدار تھا اور انگریزوں کا ظلم و جبر روز بروز بڑھتا جارہا تھا اور ہر طرف خوف و ہراس اور مایوسی و بے چارگی کی فضا طاری تھی ۔ علامہ اقبال اس حالت سے بے حد متاثر ہوئے ان کے دل میں وطن سے محبت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔علامہ اقبال اپنے حیات ہی میں عالمگیر شہرت حاصل کرچکے تھے ۔ آپ کے کلام کے متعدد ترجمے کئی بین الاقوامی زبانوں میں کئے گئے ان کے کلام میں عشق کی داستاں اور فراق کی نوحہ گیری نہیں بلکہ اس میں قومی ہمدردی کے جذبات ہوتے ہیں ۔ ان کے کلام میں ایک جوش اور ولولہ ہوتا تھا،حلقہ فکروفن کے ناظم الامور ڈاکٹر طارق عزیز نے علامہ اقبال کی شاعری میں فکری سوچ اور معاشرے کے علاوہ اقوام عالم میں قوم کی عزت اور وقار کے بارے میں روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ علامہ اقبال کی شاعری دور حاضر میں بھی ہمارے لئے مشعل راہ ہے اور ہمیں وہی جذبہ اور وہی راہیں دیکھاتی ہوئی نظر آتی ہے جس کے ہم متلاشی ہیں ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہم علامہ اقبال کی شاعری سے جڑ کر ان رازوں کو تلاش کریں اور خودی کا سبق پڑھ کر ترقی و خوشحالی کی منازل طے کرتے چلے جائیں،صدر محفل محمود احمد باجوہ نے کہا کہ علامہ اقبال کی شاعری ہمیں یگانگت اور بھائی چارے کا درس دیتی ہے اور اس وقت ملک جس دور سے گزر رہا ہے اس میں اقبال کی شاعری سے استعفادہ حاصل کرنا بہت ضروری ہے تاکہ ہمارے نوجوان طبقے کے اندر وہ ولولہ پیدا ہو جو آگے چل کر ملک کو درست سمت کی جانب لے جائے، مشاعرے کے میزبان مخدوم امین تاجر نے اظہار تشکر پیش کیا اور کہا کہ ادبی محافل ریاض میں مقیم کیمونٹی کا خاصہ رہی ہیں اور ان محافل کے ذریعے کیمونٹی کے مابین روابط قائم رہتے ہیں جس سے محبت اور پیار بڑھتا ہے محفل مشاعرہ میں نظامت کے فرائض حلقہ فکروفن کے جنرل سیکرٹری وقار نسیم وامق نے ادا کیے محفل مشاعرہ میں وقار نسیم وامق، صدف فریدی، ڈاکٹر طارق عزیز، سجاد چوہدری، شوکت جمال،سحر علی سرور خان انقلابی اور دیگر نے بھی علامہ اقبال کا کلام پڑھا اور انکی شاعری کو پاکستان کا اثاثہ قرار دیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں