158

مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے ریاستی دہشتگردی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر گہری تشویش ہے ۔شریں مزاری۔

Spread the love

برسلزمحمد اقبال بیوروچیف بیلجیم سے: وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے برسلز کے دورے کے دوران مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے ریاستی دہشتگردی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت اورپر تشدد واقعات میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے اور بھارتی فوج کی جانب سے ا نسانی حقوق کی پامالی پر عالمی برادری کو اس کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شریں مزاری نے برسلز میں بدھ کے روز یورپی پارلیمنیٹ کے رکن واجد خان کی جانب سے دیے گئے ظہرانہ کے موقع پر کیا۔ ظہرانے سے خطاب کرتے ہوئے شریں مزاری نے یورپی پارلیمینٹینز کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں بڑھتے ہوئے مظالم کی طرف دلائی اور اسے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جس طرح عورتوں بچوں اور نوجوانوں پر ظلم کیا جارہا ہے وہ قابل مذمت ہے ۔انہوں نے یورپین پارلیمینٹ کی انسانی حقوق کی ذیلی کمیٹی کی جانب سے کشمیریوں کے حق میں آواز اٹھانے پر پورپی پارلیمنیٹیز کا شکریہ ادا کیا اور اس بات پر زور دیا کہ کشمیریوں کو حق خود اردیت دلانے کے لیے ابھی بھی ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے اور اس میں یورپین پارلیمنٹ کو مزید اس مسئلے کو اجاگر کرنا ہوگا، جس پر تمام یورپی پالیمنیٹینز نے اتفاق کیا۔
یورپی یونین میں پاکستان کی سفیر نغمانہ ہاشمی کی جانب سے دئیے گئے اعشائیہ کے موقع پر وفاقی وزیر ڈاکٹر شریں مزاری نے پورپی پارلیمینٹینر ، یورپین کمیشن کے ارکان، تھنک ٹینک اور مقامی میڈیا کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے انہیں بھارت کی جانب سے حالیہ کشیدگی اور امن کو خراب کرنے کی منفی کوششوں کے جواب یں پاکستان کے ذمے دارانہ رد عمل کے باری آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت کی ترجیح معاشی و معاشرتی ترقی کو یقینی بنانا اور اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ پر امن تعلقات قائم کرنا ہے جسکی ایک حالیہ مثال کرتاپور کا بارڈ کا کھولنا بھی شامل ہے۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ انھیں افسوس ہے کہ مودی حکومت نے اپنی پارٹی کے سیاسی اہداف حاصل کے لیے پاکستان کی امن کی کوششوں کو ہمیشہ سبوتاژکیا ہے او ر بھارت ہمیشہ پاکستان کے ساتھ پر امن مذاکرات سے انکاری رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کرتاپورکا بارڈر کھلنے کو بھی بھارت نے سیاسی رنگ دیا۔
وفاقی وزیر ڈاکٹر شریں مزاری نے رکن یورپی پارلیمنیٹ اور چئیرمین کمیٹی برائے مزہبی آزادی اینڈ بلیف ، جان فیگل سے بھی تفصیلی ملاقات کی ۔ملاقات میں وفاقی وزیر نے یورپ میں بڑھتے ہوئے اسلام فوبیا اور مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تعصب پر اپنے تحفظات کا اظہارکیا انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کو مسلمانوں کو انکی مذہبی آزادی دلانے کے لیے مثبت اور ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ مسلمان بلا خوف و خطر اپنے مذہبی رسومات ادا کر سکیں۔ اس موقع پر ڈاکٹر شریں مزاری نے جان فیگل کو عورتوں، بچوں، اقلیتوں اور خواجہ سراؤں کے لیے حکومتِ پاکستان اور وزارت انسانی حقوق کی جانب سے اٹھانے جانے والے اقدامات اور اس سلسلے میں کی جانے والی قانون سازی سے بھی آگاہ کیا۔ جان فیگل نے پاکستان میں انسانی حقوقکے تحفظ اور فروغ کیلیے موجودہ حکومت کی کوششوں اور عملی اقدامات کو سراہا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں