129

آپ کی بیگم یا شوہر آپ سے جھوٹ بول رہے ہوں تو پکڑنے کا آسان ترین طریقہ جانئے

Spread the love

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) میاں بیوی میں بسااوقات کوئی لمحہ ایسا آ جاتا ہے کہ دونوں کو ایک دوسرے سے کوئی بات چھپانی پڑتی ہے اور جھوٹ بولنا پڑتا ہے، مگر اب ماہرین نے جھوٹ پکڑنے کا ایک ایسا آسان طریقہ بتا دیا ہے کہ کوئی اپنے شریک حیات سے جھوٹ بولتے ہوئے سوچے گا ضرور۔ میل آن لائن کے مطابق باڈی لینگوئج کے ماہررابرٹ فپس اور ان کی ٹیم نے تحقیق کے بعد پانچ ایسے عوامل بتائے ہیں جن سے پتا چلایا جا سکتا ہے کہ سامنے والا آدمی جھوٹ بول رہا ہے یا سچ۔ ان میں پہلی چیز معمولی تاثرات (Micro expressions)ہیں جو بات کرتے ہوئے لاشعوری طور پر انسان کے چہرے پر آتے اور آدھے سیکنڈ میں ختم ہو جاتے ہیں۔ انہیں بغور جانچنا پڑتا ہے۔ یہ تاثرات چونکہ لاشعوری طور پر آتے ہیں چنانچہ کوئی شخص چاہ کر بھی انہیں روک نہیں سکتا، کیونکہ وہ ان سے آگاہ ہی نہیں ہوتا۔ دوسری چیز آنکھوں کی حرکت ہے۔ ایک پرانی کہاوت ہے کہ جو شخص آپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہیں کر سکتا، سمجھ لیں وہ آپ سے کچھ چھپا رہا ہے۔یہ کہاوت آج بھی درست ہے۔ جھوٹ بولنے والا انسان بار بار آپ کے چہرے پر دیکھے گا اور پھر ادھرادھر نظر گھما لے گا۔ جب کوئی شخص ماضی کے کسی واقعے کو یاد کرنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ لاشعوری طور پر اپنے بائیں جانب اوپر کی طرف دیکھتا ہے۔ آپ کسی سے کوئی بات پوچھیں اور وہ بائیں جانب اوپر کی طرف نہ دیکھے تو ہو سکتا ہے کہ وہ جھوٹ بول رہا ہو۔

رابرٹ فپس کے مطابق تیسری چیز ہاتھوں کی حرکت ہے۔ جب کوئی شخص جھوٹ بولتا ہے تو اس کے ہاتھ معمول سے زیادہ متحرک ہو جاتے ہیںاور ان کی حرکت ان کے الفاظ سے ہم آہنگ بھی نہیں ہوتی، کیونکہ ان کا دماغ ایک کہانی گھڑنے میں مصروف ہوتا ہے جس کے نتیجے میں ان کے ہاتھ اس انداز میں حرکت کرتے ہیں جیسے وہ کسی خالی جگہ کو پر کر رہے ہوں۔ کسی کا آپ سے بات کرتے ہوئے ہتھیلیاں چھپایا، مٹھی بند کرنا یا ہاتھ پیچھے کی طرف چھپانے کی کوشش کرنا بھی جھوٹ کی علامات ہوتی ہیں۔چوتھی چیز آنکھیں جھپکنے کی حرکت ہے۔ کسی کا جھوٹ پکڑنا ہو تو اس کی آنکھوں میں دیکھنا اس سلسلے میں سب سے زیادہ معاون ثابت ہوتا ہے۔ جب کوئی شخص جھوٹ بول رہا ہوتا ہے تو عام طور پر اس کی آنکھیں جھپکنے کی رفتار پہلے سست ہو جاتی ہے اور پھر اس کے بعد اچانک اس کی آنکھیں جھپکنے کی رفتار معمول سے 8گنا زیادہ تیز ہو جاتی ہے۔ اگر کوئی عادی جھوٹا ہے تو وہ آپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرے گا، تاہم جب کوئی شخص جھوٹ بولنے میں تکلیف اور شرمساری محسوس کر رہا ہو تو اس کی آنکھیں جھپکنے کی رفتار زیادہ ہو جاتی ہے۔جھوٹ پکڑنے کے لیے پانچویں اور آخری چیز ٹانگوں اور پیروں کی حرکت ہے۔ جب کوئی شخص جھوٹ بولتا ہے تو وہ اپنے جسم سے منفی توانائی اور جھوٹ کے باعث لاحق ہونے والا ذہنی تناﺅ ختم کرنے کے لیے ہاتھوں اور پیروں کو خلاف معمول زیادہ متحرک کرتا ہے اور یہ عمل لاشعوری طور پر ہوتا ہے۔ جب کسی کو عدم تحفظ کاخدشہ لاحق ہو تو وہ اپنے دونوں پیروں کو ایک دوسرے کے قریب کر لیتا ہے۔ جو شخص بات کرتے ہوئے خود کو بے سکون محسوس کر رہا ہو وہ بار بار ٹانگ پر ٹانگ رکھتا اور اتار تا ہے، زمین سے اپنے پاﺅں اوپر اٹھاتا ہے اور ایک پاﺅں کو دوسری ٹانگ کے ٹخنے کے گرد لپیٹتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں