154

ظفروال تحصیل بھر میں عطائی ڈاکٹروں کی بھرمار سے صورت حال تشویشناک۔ضلعی ہیلتھ انتظامیہ خاموش تماشائی۔

Spread the love

ظفروال (نمائندہ نوائے جنگ برطانیہ ) تحصیل بھر میں عطائی ڈاکٹروں کی بھرمار سے صورت حال تشویشناک۔ضلعی ہیلتھ انتظامیہ خاموش تماشائی۔
بتایا جاتا ہے کہ ضلعی ہیلتھ انتظامیہ کی بے حسی اور ملی بھگت سے تحصیل ظفروال میں عطائیت پروان چڑھ رہی ہے عوامی حلقوں کا کہنا ہے تحصیل بھر میں یہ گھناونا کاروبار روز بروز بڑھتا جا رہا ہے بہت سارے عطائی ڈاکٹرز سادہ لوح عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے میں کوئی رعایت نہیں برتتے بلکہ اپنے اپنے پرائیویٹ کلینکس اور نجی ہسپتالوں کے باہر خوبصورت فلیکسز اور بینرز کوالیفائیڈ ڈاکٹرز کے ناموں کے ساتھ لگائے ہوئے ہیں جن پر درج ہوتا ہے کہ یہاں یہ کوالیفائیڈ ڈاکٹرز ہر ہفتے تشریف لاتے ہیں جبکہ دیکھنے میں یہ آیا ہے کئی نجی ہسپتالوں اور کلینکس پر کوالیفائیڈ ڈاکٹرز کا صرف نام ہی استعمال ہوتا ہے باقی ادویات کی تجویز سے لیکر آپریشن تک سارے کام نان کوالیفائیڈ اور کم پڑھے لکھے لوگ ہی کرتے ہیں اب تک شہر اور گردونواح کے دیہات میں کام کرنے والے عطائی ڈاکٹر کئی قیمتی جانیں ضائع کر چکے ہیں مگر ان کو پوچھنے والا کوئی نہیں بلکہ کئی عطائی ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ہم ہر ماہ ضلعی ہیلتھ انتظامیہ کے اعلی حکام کو باقاعدگی کے ساتھ طے شدہ منتھلی بھیجتے ہیں جس کی وجہ سے ہمیں کوئی نہیں پوچھتا بہت سارے نجی ہسپتالوں میں لیڈی ڈاکٹرز نہ ہونے پر وہاں پر کام کرنے والی نان کوالیفائیڈ خواتین اور دیگر عملہ خواتین کے چیک اپ سے لیکر آپریشن تک کرتی دکھائی دیتی ہیں۔نجی ہسپتال کے مالکان نے باہر سے آنے والے ڈاکٹرز کی فیس طے کر رکھی ہے جو سینکڑوں روپے فیس وصولی کے ساتھ ساتھ مختلف ٹیسٹ تجویز کر کے غریب اور سادہ لوح لوگوں کو لوٹنے میں مصروف ہیں شہری اور دیہی لوگوں نے وزیر اعظم پاکستان۔وزیر اعلی پنجاب۔وزیر صحت پنجاب سے مطالبہ کیا ہے عطائی ڈاکٹروں کے خلاف بلا تفریق کریک ڈاون کرکے ان کا خاتمہ یقینی بنایا جائے اور عطائیت کو فروغ دینے والے محکمہ صحت کے اعلی حکام کے خلاف محکمانہ کاروائی کی جائے
محمد عمران باری نمائندہ نوائے جنگ لندن ظفروال

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں