162

سویلین سپریمیسی ایک خواب بیرسٹر امجد ملک

Spread the love

سویلین سپریمیسی ایک خواب
بیرسٹر امجد ملک

پاکستان میں آئے دن وزیراعظم بقول ہندوستانی ہم منصب پاجاموں کی طرح بدلتے رہتے ہیں اور جو پھندے سے یا دھندے سے بچ جائیں انہیں بیچ چوراہے پنڈی میں نشان عبرت بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جاتی تاکہ آنے والوں کے لئے سبق اور سند رہے۔ یہ تاریخ ستر سال سے بتدریج دہرائی جارہی ہے۔ جمہوریت حصوں بجزوں میں آتی ہے اور بدبودار وبا کی طرح نفرت سے احتمام کے ساتھ واپس لے جائی جاتی ہے۔ نان بلڈی ڈکٹیٹر دس دس سال اس مملکت خداداد میں بسنے والے لوگوں کو سمجھاتے ہیں کی بلڈی سویلین لیڈر اچھے اور باکردار باسٹھ تریسٹھ کے لوگ نہیں لیکن کیا کریں کہ دو سو ملین لوگ انکا چورن خریدنے کے لئے تیاری ہی نہیں پکڑتے اور ہر دفعہ انہیں گلے لگاتے ہیں جنہیں گلے سے اتارنے اور لٹکانے میں سالوں لگے۔ کہانی پرانی ہے اور تاریخ سے ہم نےکبھی کچھ کب سیکھا ہے؟۔ اب تو رہتے سہتے چیدہ چیدہ حمائیتیوں کو بھگا بھگا کر مارا جارہا ہے۔ایسے میں جمہوریت کا کیس لڑنا صدقہ جاریہ سے کم نہیں اور جو لڑ رہے ہیں انہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں –

دہشت گردی اور انتہا پسندی ایک سوچ سے جنم لیتی ہے نیشنل ایکشن پلان پر اگر من وعن عمل ہو تو پاکستان اتنی قربانیوں کے بعد معرض وجود میں آنے والا ملک دہشت گردی کو پاس بھی نہ پھٹکنے دے۔ بات پابندیوں کی نہیں وقت پر راست اقدامات کی ہے جو ایک زمہ دار ریاست سے امید کی جاتی ہےاور وہ اقدامات کون شروع کرے گا کا کے حکم سے ہوں گے اور کون اس پر عمل کرے گا یہی ملئین ڈالر کا سوال ہے بقول امجد اسلام امجد “بات گو زرا سی ہے بات عمر بھر کی ہے”۔جن جماعتوں پر اب پابندی لگائی گئی ہے۔ جب بزرگ لیڈران ان پر پابندی کی بات کرتے تھے تو کہا جاتا تھا کہ انڈیا کو خوش کرنے کے لئے کہتے ہیں غدار ہیں اور انہیں اپنے اثاثے گردانتے تھے اب سو پیاز اور سو جوتا کھا کر اور ایک وزیراعظم کی نسل کو سبق سکھا کر کام وہیں سے شروع کریں گے جہاں سے چھوڑا تھا۔صرف تاریخ ایسے حادثوں کا محاسبہ کرتی ہے۔ جمہوریت اور شخصی آزادیوں کی جنگ میں فری پریس ہر اوّل دستے کا فرض ادا کرتا ہے۔ جتنا کمزور میڈیا آج نظر آرہا ہے اتنا تین نومبر ۲۰۰۷ کو لگنے والی ایمرجنسی میں بھی نہیں تھا۔ پاکستانی میڈیا سخت ریاستی پریشر میں کام کر رہا ہے اور لگتا ہے اگر اصلاحات نہ لائیں گئیں تو الیکٹرانک میڈیا سکڑ کر پرانے پی ٹی وی والی خبروں کے سطح پر چلا جائیگا اور فری اور مثبت روئے کے ساتھ چینلز اور اخبارات چلانا ممکن نہیں رہے گا کیونکہ اشتہارات کو حکومت وقت خبر کی ترسیل وقت اور مواد کے ساتھ نتھی کررہی ہے جو آزادی صحافت کے لئے بڑا چیلنج ہے۔ پاکستانی میڈیا جلد یو ٹیوب پر آنے والا ہے۔ اس میں پڑھنے اور سننے والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں ۔

ضرور پڑھیں   لکڑ حضم -------! علی معین نوازش

نیب آجکل خبروں میں ہے لیکن بحیثیت قانون دان جو اعلی عدلیہ انُکے بارے میں فرما رہی ہے وہ پڑھنے اور اس پر عمل کرنے لائق ہے۔ انصاف اور اسکے نظام پر عام آدمی کا اعتماد اٹھتا جا رہا ہے۔پاکستان میں جتنی قانونی اصلاحات کی ضرورت اب ہے پہلے کبھی نہ تھی آبادی کا بڑھاؤ اور بدلتی دنیا میں اصلاحات کے بغیر انصاف کرنے کے زرائع پر اعتماد مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ بے لاگ بلا امتیاز اور سب کا صاف شفاف اور منصفانہ احتساب نیب جیسے ادارے اور انصاف کی فراہمی کے اداروں پر اعتماد کے لئے ازحد ضروری ہے – وگرنہ باری باری سب کی باری ہوگی اور انصاف کرنے والے اسی طرح آخری ہنسی ہنستے رہیں گے۔پاکستان میں اس وقت نچلی سطح پر انصاف کی فراہمی کا نظام بےحد تضادات کا شکار ہے۰ موجودہ صورتحال انصاف میں تاخیر ، کرپشن ، جانبداری، غیر پیشہ روانہ رویوں اور انصاف کی راہ میں رکاوٹوں کی وجہ سے سول اور کرمنل دونوں شعبوں میں اصلاحات کی متقاضی ہے۰ ملزمان کی مجرمان میں عدالتی ٹرائیل کے زریعے تبدیلی کی شرح انتہائی کم ہے جسکی وجہ غیر معیاری تفتیش اور پراسیکیوشن کا علیحدہ نہ ہونا ہے اور ججز کی کمی کے ساتھ ساتھ ججزکے معیارات میں کمی اور جاری تربیت اور نچلی سطح پر عدالتی نظام کو زمانہ جدید کے خطوط پر آراستہ نہ کرنا ہے۰ سول نظام تو بیٹھتا محسوس ہوتا ہے کیونکہ مقدمات سول جج کی عدالت میں سالوں چلتے ہیں ۰ ہم نے انہیں کسی وقت کا پابند نہیں کیا ‘ اصلاحات کے لئے پارلیمنٹ میں اس موضوع پر سیر حاصل گفتگو کی اشد ضرورت ہے۔ امید ہے نئے چیف جسٹس عدالتی اخلاقیات کے قانونی معیار میں نیوکلیائی تبدیلی لیکر آئیں گےلیکن پارلیمان کے کرنے کے کاموں کا وزن ججز کے کندھے پر ڈالنا صائب نہیں ہوگا۔

ضرور پڑھیں   جنگ کا خطرہ اور مودی کے خدمت گار - سلیم صافی

حکومت وقت کو بھی چاہیے کہ انتقامی سیاست کی بجائے ملکی ترقی کے کاموں میں حزب اختلاف کے ساتھ مقابلہ کرے ترقی کرنے کے لئے سرکاری ملازمین کا تعاون اشد ضروری ہے اگر حکومت نیب کے زریعے سینئیر بیوروکریٹس کو ڈرائے دھمکائے گی تو وہ شہباز سپیڈ سے کام کیسے کریں گے۔ کرپشن کا خاتمہ ہونا چاہیے لیکن احتساب سب کا ہونا چاہیے اور انصاف ایسا ہو کہ انصاف ہوتا نظر آئے-مسلم لیگ نواز کے ترقیاتی کاموں کو آگے لیجانے کی بجائے قوم کو سستے نعروں اور غیر نظریاتی نظاروں کے خوابوں میں الجھا دیا ہے عوام کو فریب نظر سے زیادہ دیر تک حقیقت سے دور نہیں رکھا جا سکتا ۔ موٹر وے، میٹرو ، اسلام آباد ائیرپورٹ ، پاور پلانٹس اور اورنج ٹرین جیسے منصوبے مکمل ہونے چاہیے ۔تختی کون لگاتا ہے عوام کا مسلۂ نہیں منصوبے کون بناتا ہے عوام جو جاننے کا حق ہے۔سوشل میڈیا پر ابھرنے والی عوامی آوازوں کو زور زبردستی سے بند کریں گے تو گھٹن ہوگی اور ایسے طوفان کو جنم لے گی جو سب کچھ بہا کے ساتھ لے جائیگا عوام کو آزادی رائے کے اظہار سے روکا نہیں جاسکتا ماسوائے جنسی بے راہ روی پر مشتمل مواد اور توہین رسالت اور مذہب جیسے مواد کو روکنے کی کاروائی کی جاسکتی ہے۔ ساہیوال کے سانحہ پر دل افسردہ ہوتا ہے ایسے واقعات کی روک تھام نہ کی تو پاکستان کے بارے میں پولیس سٹیٹ جیسا منفی تاثر ابھرے گا۔اسی لاکھ تارکین وطن میں بے چینی بڑھ رہی ہے کیونکہ وہ صرف دینے کے لئے ضرورت مند کے اشتہار کی طرح ہیں انہیں دینے کے لئے ریاست کے پاس کچھ نہیں نہ حق نمائیندگی نہ انکی جان و مال اور جائداد کی حفاظت۔

ایک چیز جو متواتر پریشان کن ہے وہ یہ کہ بحیثیت قوم ہم اپنے بزرگ لیڈران ایک ایک کرکے گنوا رہے ہیں – جس معاشرے یا قوم کا کوئی بڑا نہ ہو اسکے معاملات ہمیشہ حل طلب رہتے ہیں۔ کشمیر بھی اسکی ایک مثال ہے ہم نے کوئی ایسا لیڈر چھوڑا ہی نہیں جو بھارت سے بات کرسکتے اور جو کرے وہ غدار اور جو نہ کرے وہ نااہل۔ ہم جس شخص کو پانچ سال ہاتھ ٹھوک کر سلیوٹ مار رہے ہوتے ہیں جب عہدہ نہیں رہتا اسی شدو مد سے اسکی مٹی بھی پلید کر رہے ہوتے ہیں ۔ایسی شدومد ڈکٹیٹروں کے حصے میں نہیں آتی جنہیں پرچم میں لپیٹ کے یا گارڈ آف ہانر دے کررخصت کیا جاتا ہے۔ نواز شریف تو حق بجانب ہوں گے اگر وہ کہیں کہ میرے ایک لفظ “ووٹ کو عزت دو” نے اتنا تماشا کیا اور “اندر بوٹی مشک مچایا” تو میرے ایک قدم کا رد عمل کیا ہوگا اسکو سمجھنے کے لئے میرا ارسطو ہونا ضروری نہیں ! گرفتاری ضمانت ،کرپشن کیسز اور غداری سب آپس میں جڑے ہوئے ہیں اصل مسلہ پاکستان میں سویلین حکومت کی بقا اور اسکی مضبوطی ہے اور ووٹ کو عزت دو اسکی کنجی ہے- عمران خان کو ایک کمزور حکومت ورثے میں ملی ہے جو ایک از خود نوٹس یا پیٹیشن کی مار ہے اور اتنا بے وقعت اور کمزور وزیراعظم آفس شاید پہلے کبھی نہ دیکھا ہو اس سے وہ نیوکلیائی تبدیلیاں لانے سے قاصر ہوں گے جنکا انہوں نے پچھلے بیس سال واویلہ مچایا ہے۔ ایک سویلین لیڈر ہونے کے ناطے انہیں پارلیمان سے اپنے آفس کی مضبوطی اور اسکے مستقبل کو محفوظ کرنے کے لئے بامقصد اور بامعنی قانون سازی کرنا ہوگی جس کے لئے انہیں بقول انکے ان سب چوروں اور غداروں سے بات کرنا پڑے گی جو اس نظام کے شراکت دار ہیں۔ سویلین سپریمیسی کا خواب اور اسکی جانب سفر طویل ہے لیکن تاریخ تلخ بھی ہے۔ لیاقت علی خان، فاطمہ جناح، زوالفقار علی بھٹو، اکبر بگٹی، باچا خان ،ولی خان، بے نظیر بھٹو، اور اب نواز شریف سب سویلئین لیڈران ہی غدار تو نہیں ہو سکتے نا ۔ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔ وہ وقت دور نہیں جب یا تو اصل سمت سفر شروع ہوگا اور یا ہر قدآور سول لیڈر یہ کہے گا کہ مجھے معاف ہی رکھو بھائی! اب کیا ملک مریم نواز شریف، فاطمہ بھٹو ، بلاول زرداری ، حمزہ اور علی ترین کے حوالے کرنا ہے یا سرکار ہی اسے نیم دلی سے بادل نخواستہ چلائے گی کوئی درمیانی راستہ نکالنا ہوگا فیصلہ آپ پر ہے۔

ضرور پڑھیں   حکومتوں کا زوال - ڈاکٹر عبدالقدیر خان

بیرسٹر امجد ملک ایسوسی ایشن آف پاکستانی لائیرز برطانیہ کے صدر اور ہیومن رائیٹس کمیشن اور سپریم کورٹ بار پاکستان کے تاحیات رکن ہیں اور ہیومن رائیٹس لائیر آف دی ائیر 2000 کے ایوارڈ کے حامل ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں