225

وہ خواتین جن کے ہمسفر فحش فلمیں دیکھتے ہیں وہ کس خوفناک بیماری میں مبتلا ہوسکتی ہیں؟ نئی تحقیق سامنے آگئی

Spread the love

کولمبس (ویب ڈیسک) امریکہ کی اوہائیو سٹیٹ یونیورسٹی میں ایک حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جن خواتین کے ہمسفر فحش فلمیں دیکھتے ہیں ان خواتین میں ایٹنگ ڈس آرڈر (کم بھوک لگنا یا بہت زیادہ بھوک لگنا) پیدا ہوسکتا ہے۔ تحقیق میں اس کی وجہ خواتین کے جسم میں پیدا ہونے والے احساسِ عدم تحفظ کو قرار دیا گیا ہے۔

اوہائیو سٹیٹ یونیورسٹی کی تحقیق میں 400 خواتین کا جائزہ لیا گیا ۔ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جن خواتین کے ہمسفر روزانہ کی بنیاد پر فحش فلمیں دیکھتے ہیں ان خواتین میں خود کو دبلا پتلا رکھنے کی خواہش پیدا ہوجاتی ہے ۔ ایسا ان خواتین کے اندر نفسیاتی طور پر پیدا ہوجانے والے احساسِ عدم تحفظ کے باعث ہوتا ہے۔ جب خواتین خود کو دبلا رکھنے کے وہم میں مبتلا ہوتی ہیں تو یا تو ان کی بھوک ہی اڑجاتی ہے یا پھر وہ حد سے زیادہ کھانے لگ جاتی ہیں ۔

ماہرین نفسیات کی جانب سے کی جانے والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ فحش ویڈیوز میں جو دکھایا جاتا ہے حقیقی زندگی میں ایسا کچھ نہیں ہوتا ۔ جو خواتین اپنے ہمسفر کے ساتھ بیٹھ کر فحش بینی کرتی ہے وہ اپنے اندر کہیں نہ کہیں خود کا موازنہ کر رہی ہوتی ہے اور خود کو کمتر سمجھنا شروع کردیتی ہے جس کے باعث ایٹنگ ڈس آرڈر ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔

امریکہ میں 30 ملین لوگ کسی نہ کسی قسم کے ایٹنگ ڈس آرڈر کا شکار ہیں ، امریکہ میں ہر ایک گھنٹے بعد ایٹنگ ڈس آرڈر کے باعث ایک موت ہوتی ہے۔ ایٹنگ ڈس آرڈر زیادہ تر میڈیا پر چلنے والے اشتہارات کے باعث بھی پیدا ہوسکتا ہے اور بعض لوگوں میں یہ بیماری احساسِ کمتری کے رد عمل کے طور پر بھی پیدا ہوجاتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں