44

Valentine’s day ( ایک معاشرتی لعنت ) ویلنٹائنز ڈے لمحہء فکریہ ( ویلنٹائنز ڈے ) Valentine’s Day . (ایک نئی لعنت) لمحہء فکریہ “ارشد منیر نقشبندی” لندن

Valentine’s day ( ایک معاشرتی لعنت ) ویلنٹائنز ڈے

لمحہء فکریہ

( ویلنٹائنز ڈے )

Valentine’s Day . (ایک نئی لعنت)
لمحہء فکریہ

“ارشد منیر نقشبندی”
لندن
ویلنٹائن ڈے ایک مخرب اخلاق رسم آج اسلام دشمن طاقتیں اسلامی ثقافت وتمدن کو بے حیائی وعریانیت میں تبدیل کرکے اسے روشن خیالی اور آزادی کا نام دینے کے لئے کوشاں ہیں،وہ فحاشی پر مبنی رسوم کو اس طرح آراستہ کرکے پیش کررہے ہیں کہ مسلمان اپنی پاکیزہ تہذیب وعمدہ تمدن کو چھوڑکر اغیار کے تہواروں کا دلدادہ ہوتاجارہا ہ-آزادی کے نام پر غیر محرم کے ساتھ گھومنے پھرنے اور جنسی تعلقات قائم کرنے کو باعث فخر سمجھاجارہا ہے،جس کے نتیجہ میں یہ حیا سوز حرکتیں صرف کلبوں اور ہوٹلوں ہی میں نہیں کی جارہی ہیں بلکہ کالجز اور سڑکوں پر بھی طوفان بے حیائی بپاکیا جارہا ہے۔یہ تمام رسوم‘ اسلامی تعلیمات کے مغائر ہیں،صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ ہر ذی شعور،صاحب عقل ان بیہودہ رسوم کی قباحت وشناعت کی گواہی دیگا۔
برطانیہ میں کارڈز چھاپنے والی کمپنیاں اپنی سپیشل ڈیزائن کردہ مصنوعات سے منافع کمانے کے لئے خوب اشتہار بازی کر کے نوجوانوں کی جذباتی کمزوری سے خوب فائدہ اٹھا رہی ہیں اور اب تو بہت ساری کمپنیوں میں مقابلہ بھی ہو رہا ہے
غیر مسلم بالخصوص سفیدفام لوگ ہماری ثقافت کے بارے میں جاننا ہی نہیں چاہتے

مگر اس کے بر عکس

ہمارا بے ضمیر میڈیا اسے خوب بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے اور اسے مال کمانے کا بہترین طریقہ اور ذریعہ سمجھتا ہے اور اس مادر پدر آزاد حیاء سوزی کا خوب چرچا کرنے میں لگا ہوا ہے
سفید اور سیاہ فام لوگوں کا ہمارے تہوار منانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا.
اس مغربی لادینی رسم کے نتیجے میں ملک بھر میں زنا جیسے کبیرہ گناہ کو خوب فروغ دیا جا رہا ہے
اور
نتیجتاً اسقاط حمل کا دھندہ بھی خوب ترقی کر رہا ہے
اسقاط حمل کے لیے غیر تعلیم یافتہ اور غیر تربیت یافتہ نرسوں یعنی ( midwives ) کے اندھا دھند آپریشنز جو عام گھروں میں ہی کئے جا رہے ہیں اس سے نئی نسل کی ہزاروں بیٹیاں بے شمار موزی امراض حتی کہ( رحم کے کینسر ) میں مبتلا ہو رہی ہیں
جس کی بناء پر ان کی آئندہ ازدواجی زندگیاں تباہ ہو رہی ہیں

اسی بے راہ روی کی بنا پر بچے اور بچیاں ایک دوسرے کو بلیک میل بھی کر رہے ہیں

اگر اس کے تدارک کے انتہائی مناسب اور فوری اقدامات نہ کئے گئے تو پورا معاشرہ ذلت و عذاب کی دلدل میں پھنس کر رہ جائے گا

معاشرتی گھٹن اور قتل ہو جانے کے خوف جیسی کیفیات کی بنا پر بچیاں اپنی اصل تکلیف اور مسائل کا اظہار کرنے سے قاصر ہیں
اور غیر ضروری اور غیر معیاری ادویات کے استعمال سے صحت کےبے شمار نئے مسائل جنم لے رہے ہیں

اس مصیبت سے رہائی پانے کے لئے والدین، اساتذہ، اور دانشوروں کو مل کر کام کرنا ہوگا

اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمارے نوجوانوں کو عقل و شعور عطاء فرمائے اور اس طرح کی ہر لعنت سے بچائے،

( دوستوں کو اس دلخراش حقیقت سے مطلع کرنے کی یہ میری ادنی سی کاوش ہے ).

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں