1,489

سائنسدانوں نے ویاگرا کا متبادل تیار کرلیا

Spread the love

جنسی طاقت کی گولی ویاگرا کئی طرح کے مضرصحت اثرات کے باوجود پوری دنیا میں استعمال کی جا رہی ہے جس کی ایک وجہ اس کا متبادل دستیاب نہ ہونا ہے تاہم اب برطانوی سائنسدان اس کا متبادل تیار کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ میل آن لائن کے مطابق برطانوی شہر گلڈفورڈ کی فرم ’فیوچرا میڈیکل‘ کے سائنسدانوں نے ایک کریم تیار کی ہے جس کا نام ’ایروکسن‘ (Eroxon)رکھا گیا ہے۔ سائنسدانوں کا دعویٰ ہے کہ یہ کریم ویاگرا کا بہترین متبادل قرار پائے گی کیونکہ یہ اس کی نسبت بہت جلد اثر دکھاتی ہے اور اس کے مضراثرات بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ایروکسن پانچ منٹ میں اثردکھانا شروع کر دیتی ہے جو ویاگرا کے برعکس صرف آدھے گھنٹے تک باقی رہتا ہے۔ عام طور پر مردوں میں ایستادگی کا مسئلہ عضو مخصوصہ میں خون کی گردش متاثر ہونے کے باعث پیدا ہوتا ہے۔ ویاگرا پورے جسم میں خون کی نالیوں کو چوڑا کرتی ہے جس سے ایستادگی کا مسئلہ کم یا ختم ہو جاتا ہے۔ اس کریم میں یہ خاصیت ہے کہ یہ براہ راست عضو مخصوصہ پر لگائی جائے گی اور صرف اسی کی وریدوں کو کھول کر اس میں خون کا بہاﺅ بہتر بنائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ اس کا اثر بہت تیز اور زیادہ مو¿ثرہو گا۔

فیوچرا میڈیکل کے ہیڈآف ریسرچ کین جیمز کا کہنا ہے کہ ”اس کریم کے تجربات جاری ہیں۔ اب تک 230مردوں پر اس کے تجربات کیے جا چکے ہیں۔ ان میں سے 40فیصد مردوں پر اس دوا نے 5منٹ میں اثر دکھانا شروع کر دیا تاہم جن میں ایستادگی کا مسئلہ زیادہ سنگین تھا ان میں اس کریم نے 10منٹ میں اثر دکھایا۔ان مردوں پر کریم کا اثر لگ بھگ 30منٹ تک رہا۔ اس کے برعکس ویاگرا کا اثر 4گھنٹے تک برقرار رہتا ہے۔ زیادہ تر لوگ ایروکسن کی اسی خصوصیت کی وجہ سے اس کو ترجیح دیں گے۔“

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں