72

سائنسدانوں کی وہ شرمناک ایجاد جس کی وجہ سے مردوں کی خواتین میں دلچسپی کم ہوگئی

مصنوعی ذہانت کی حامل جنسی گڑیائیں مغربی معاشروں میں کافی مقبول ہو چکی ہیں تاہم ماہرین انہیں انسانیت کو درپیش چند بڑے خطرات میں سے ایک قرار دے رہے ہیں۔ ڈیلی سٹار کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ جنسی گڑیاﺅں کے باعث مردوں کی خواتین میں دلچسپی تیزی کے ساتھ کم ہوتی جا رہی ہے اور ایسے ممالک جہاں یہ رجحان بڑھ رہاں ہے وہاں بچوں کی شرح پیدائش میں بھی اسی رفتار سے کمی واقع ہو رہی ہے۔ اگر جنسی گڑیاﺅں کی مقبولیت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو وہ وقت دور نہیں جب مرد مکمل طور پر عورتوں میں جنسی رغبت کھو دیں گے اور انسانیت معدومی کے خطرے سے دوچار ہو جائے گی۔ یونیورسٹی آف منیٹوبا کے پروفیسر ڈاکٹر نیل مک آرتھر اور یونیورسٹی آف وسکانسن سٹاﺅٹ کے پروفیسر مارکی ٹوسٹ کا کہنا ہے کہ یہ بات محض مفروضہ نہیں ہے بلکہ اس کی عملی مثالیں دنیا میں سامنے آنی شرو ع ہو گئی ہیں۔ ایک مثال جاپان کی ہے جہاں اس حوالے سے کئی سروے کیے گئے۔ ان کے نتائج میں معلوم ہوا ہے کہ جوں جوں جاپان میں جنسی گڑیائیں فروغ پا رہی ہیں، اس رفتار سے جاپان کی آبادی میں کمی واقع ہونی شروع ہو چکی ہے کیونکہ وہاں مرد خواتین کے ساتھ جنسی تعلق استوار کرنے کی بجائے ان گڑیاﺅں کو ترجیح دینے لگے ہیں۔

جاپان میں ان گڑیاﺅں کی مقبولیت اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ حال ہی میں ایک سکول کے 35سالہ اکی ہیکو کونڈو نامی شخص نے ایک جنسی گڑیا کے ساتھ باقاعدہ شادی کر لی ہے اورجاپان میں یہ اپنی نوعیت کا واحد واقعہ نہیں ہے۔پروفیسر آرتھر کا کہنا تھا کہ ”مردوں میں جنسی گڑیاﺅں کے بڑھتے رجحان پر جاپان میں تحفظات شروع ہو چکے ہیں۔ جاپان جیسے ممالک میں تنہائی لوگوں کا ایک بڑا مسئلہ ہے، شاید اسی لیے وہاں یہ جنسی گڑیاﺅں کا استعمال تیزی سے عام ہو رہا ہے لیکن یہ رجحان اپنے ساتھ سنگین خطرہ لے کر آ رہا ہے۔گزشتہ سال جاپان کی آبادی میں 1899ءکے بعد سب سے زیادہ کمی واقع ہوئی، اور بچوں کی پیدائش کی شرح باقاعدہ بحران کی حد تک گر گئی۔ 2018ءمیں جاپان میں گزشتہ سال کی نسبت 4لاکھ 48ہزار کم بچے پیدا ہوئے اور اس کی وجہ وہاں جنسی گڑیاﺅں کی مقبولیت قرار دی جا رہی ہے، کیونکہ جس شرح سے ان کی مقبولیت بڑھ رہی ہے اسی شرح سے بچوں کی پیدائش کم ہو رہی ہے۔اگر یہی صورتحال رہی تو جلد پوری دنیا اس صورتحال سے دوچار ہو گی اور انسانی آبادی تیزی سے کم ہوتی چلی جائے گی۔“

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں