157

”مجھے میری مرضی کے بغیر پیدا کیوں کیا؟“ بھارتی شخص نے ’امی، ابو‘ کیخلاف عدالت جانے کا اعلان کر دیا

Spread the love

ممبئی : ممبئی کے رہائشی 27 سالہ شخص نے اپنے والدین کیخلاف عدالت جانے کا اعلان کر دیا ہے جس کا کہنا ہے کہ اسے اس کی مرضی کے بغیر پیدا کیا گیا ہے۔

رافائل سیمیول کا کہنا ہے کہ چونکہ بچوں کے پاس یہ فیصلہ کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہوتا کہ وہ اس دنیا میں آنا چاہتے ہیں یا نہیں، اس لئے والدین کو چاہئے کہ وہ زندگی بھر اپنے بچوں کو سپورٹ کریں۔ میرا احتجاج حقیقی طور پر نسل بڑھانے کیخلاف ہے جس کے باعث ناصرف زمین پر دباﺅ بڑھتا ہے بلکہ ماحولیاتی توازن میں بھی بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔

رافائل نے کہا کہ ”میں چاہتا ہوں کہ ناصرف بھارت بلکہ پوری دنیا کو یہ احساس ہونا چاہئے کہ انہیں اپنی مرضی کے بغیر اس دنیا میں لایا گیا ہے اور وہ اپنے والدین کے مقروض نہیں ہیں اور اگر ہمیں ہماری مرضی کے بغیر دنیا میں لایا گیا ہے تو پھر ہمارے والدین پوری زندگی کیلئے ہماری ذمہ داری اٹھائیں اور گزربسر کیلئے خرچ دیں۔ “

ضرور پڑھیں   غیرملکیوں کے لئے کینیڈامیں ملازمت کے ساتھ ساتھ مفت زمین کی آفرسامنے آگئی

رافائل نے یہ تو نہیں بتایا کہ وہ کس عدالت میں جائے گا مگر دلچسپ امر یہ ہے کہ اس کے والدین بھی وکالت کے پیشے سے وابستہ ہیں اور حیران کن طور پر تینوں کے درمیان تعلقات بھی انتہائی خوشگوار ہیں۔

رافائل نے مزید کہا کہ ”مجھے میرے والدین کی بھرپور سپورٹ حاصل ہے لیکن میں جانتا ہوں کہ عدالت میں ان کا نقطہ نظر مختلف ہو گا۔ لیکن مجھے سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ میں جس مسئلے کیخلاف آواز بلند کر رہا ہوں وہ بہت بڑا ہے، اس کے علاوہ اس میں چند مقاصد بھی ہیں، جیسا کہ بہبود آبادی اور ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنا۔“

ضرور پڑھیں   ’یہ بتانے کےلئے سب کو جمع کیا ہے کہ میری محبوبہ میرے سے بے وفائی کررہی ہے‘ خاندان والوں کو جمع کرکے آدمی نے ایسا اعلان کردیا کہ سب ہکا بکا رہ گئے

رافائل کا مزید کہنا تھا ”اگر آپ اپنے والدین کیلئے کچھ نہیں کرنا چاہتے تو مت کریں اور اگر آپ کو حقیقی طور پر واقعی یہ محسوس ہوتا ہے کہ اپنے والدین کیلئے کچھ کرنا چاہئے، تو ضرور کریں۔ لیکن والدین کو چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کو سرمایہ کاری یا انشورنس پالیسی کے طور پر نہ دیکھیں اور ان کیساتھ ایسا سلوک مت کریں۔“

رافائل یہ بھی تسلیم کرتا ہے کہ کسی بھی بچے سے اس کی پیدائش کی رضامندی پوچھنا ناممکن ہے لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتا ہے کہ ”رضامندی سے میری مراد یہ ہے کہ آپ اپنے والدین کے کسی طور پر بھی قرض دار نہیں ہیں کیونکہ آپ کو پیدا کرنا ان کا اپنا فیصلہ تھا۔ آپ کے والدین نے کچھ اچھا وقت گزارا، اس لئے آپ پیدا ہوئے، اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے کہ آپ کو قطعی طور پر اس کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔“

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں