242

وہ خواتین جو کوشش کے باوجود حاملہ نہ ہوپارہی ہوں انہیں کیا کرنا چاہیے؟ مفید مشورے

Spread the love

کراچی(ویب ڈیسک) اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کی طرف سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’پاکستان میں 17فیصد شادی شدہ جوڑوں کو بانجھ پن یا اولاد کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔‘ تاہم امریکی نیشنل لائبریری آف میڈیسن کے ماہرین نے اولاد کے حصول کے لیے تگ و دو کرنے والی خواتین کے لیے کچھ ایسے مشورے دیئے ہیں جو ان کی مشکل آسان کر سکتے ہیں۔ویب سائٹ ’پڑھ لو‘ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ جو خواتین اولاد کے حصول میں دشواری کا سامنا کر رہی ہیں انہیں بھرپور ناشتہ کرنا چاہیے۔ اکثر خواتین کو ’پولی سسٹک اووری سنڈروم‘ نامی عارضے کی وجہ سے حاملہ ہونے میں دشواری کا سامنا ہوتا ہے۔ اگر ایسی خواتین اچھا ناشتہ کریں جو کیلوریز سے بھرپور ہو، تو ان کے ہارمونز بہتر ہوتے ہیں اور عارضے سے نجات مل جاتی ہے۔ ایسی خواتین کو اپنی وزن پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ انہیں چاہیے کہ نہ تو فربہ ہوں اور نہ ہی بالکل دبلی پتلی۔ انہیں اپنے جسم کو متناسب رکھنا چاہیے۔ عورت کا وزن ایک ایسا عنصر ہے جو اس کی افزائش نسل کی صلاحیت پر بہت زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔ یہ نہ تو حد سے زیادہ ہونا چاہیے اور نہ کم۔

ماہرین کے مطابق حاملہ ہونے کی کوشش کرنے والی خواتین کو چکنائی سے بھرپور غذا کھانی چاہیے۔ انہیں زیادہ چکنائی والی ڈیری مصنوعات استعمال کرنی چاہئیں۔ اس سے ان کی گود ہری ہونے کے امکانات میں 27فیصد کا اضافہ ہو جائے گا۔ حیض سے پہلے اور بعد کے دنوں میں خواتین کے حاملہ ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں کیونکہ ان دنوں میں ان میں بیضوں کی تعداد زیادہ پیدا ہوتی ہے چنانچہ ان دنوں میں انہیں اپنے شوہر کے ساتھ زیادہ وقت گزارنا چاہیے۔ ایسی خواتین کو چائے اور کافی وغیرہ سے اجتناب برتنا چاہیے کیونکہ ان میں پائی جانے والی کیفین خواتین کی افزائش نسل کی صلاحیت پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے اور ان میں اسقاط حمل ہونے کے امکانات میں بھی اضافہ کرتی ہے۔’پڑھ لو‘ کے مطابق جن خواتین کو اولاد کے حصول میں دشواری کا سامنا ہے انہیں سورة مریم کی تلاوت کرنی چاہیے، کیونکہ علماءکرام اولاد کی خواہش مند خواتین کو سورة مریم پڑھنے کی تلقین کرتے ہیں۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں