143

سردرد کی گولی کھانے کا خطرناک نقصان تازہ تحقیق میں سامنے آگیا

Spread the love

نیویارک: سردرد کی گولی ’اسپرین‘ ہر گھر میں موجود ہوتی ہے، جسے لوگ سردرد کے علاوہ ہارٹ اٹیک اور دل کی بیماریوں سے بچنے کے لیے پیشگی اقدام کے طور پر بھی استعمال کرتے ہیں کیونکہ یہ خون کو پتلا کرتی ہے۔تاہم اب سائنسدانوں نے اس گولی کے بے جا استعمال کا ایک انتہائی خوفناک نقصان بتا دیا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق ادھیڑ عمری میں جو لوگ روزانہ اسپرین کی گولی کھاتے ہیں انہیں یہ گولی فائدے سے کہیں زیادہ نقصان پہنچاتی ہے کیونکہ اس سے ان کے جسم کے اندر خون بہنے (Internal bleeding)کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے، جو ہارٹ اٹیک سے بھی زیادہ مہلک ثابت ہوتا ہے۔

کنگز کالج لندن کے سائنسدانوں نے اس تحقیق میں 1لاکھ 60ہزار لوگوں کا طبی ڈیٹا حاصل کیا اور ان کے اسپرین کھانے کے معمول کے ساتھ اس کا تجزیہ کرکے نتائج مرتب کیے جن میں معلوم ہوا کہ ادھیڑ عمر کے ایسے لوگ جو دل کی بیماریوں سے بچنے کے لیے پیشگی اقدام کے طور پر اسپرین کھاتے تھے ان میں غالب اکثریت اندرونی بلیڈنگ کے خطرے سے دوچار تھی۔ اسپرین کھانے کی وجہ سے ان لوگوں کو ہارٹ اٹیک یا سٹروک ہونے کا امکان 11فیصد کم تھا لیکن دوسری طرف ان کے جسم کے اندر خون بہنے کے خطرے میں 43فیصد اضافہ ہو چکا تھا۔تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر سین ژینگ کا کہنا تھا کہ ”ہم نے جتنے لوگوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا ان میں روزانہ ایک گولی اسپرین کھانے والے ہر 210افراد میں سے ایک کو اندرونی بلیڈنگ شروع ہو چکی تھی۔ صحت مند لوگوں کے لیے اس گولی کا نقصان فائدے سے کہیں زیادہ ہے لہٰذا بلا وجہ اس کا استعمال نہ کرنا زیادہ بہتر ہے۔“

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں