116

امریکا اپریل تک افغانستان سے نصف فوجی بلا لے گا، افغان طالبان کا دعویٰ

Spread the love

ماسکو: افغان طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا رواں برس اپریل تک افغانستان سے اپنے نصف فوجیوں کو واپس بلا لے گا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق افغان طالبان نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا نے حالیہ امن مذاکراتی دور میں اس سال اپریل تک نصف فوجیں واپس بلانے کا وعدہ کیا ہے۔

افغان طالبان کے ترجمان نے ماسکو میں امن مذاکرات کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ فریقین نے ایک دوسرے کو فوجیوں کے پُر امن انخلاء اور افغانستان کی سرزمین دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ ہونے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی افغانستان سے اپنے نصف فوجیوں کے انخلاء کا عندیہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ فضول کی جنگ میں امریکا کی معیشت کو نقصان پہنچا ہے، امریکا اب ساری توجہ معیشت کے فروغ پر دینا چاہتا ہے۔

ضرور پڑھیں   ٹرمپ کا غیر قانونی تارکین وطن کے معاہدے کو ختم کرنے کا اعلان

واضح رہے کہ امریکا اور افغان طالبان کے درمیان قطر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں ہونے والے امن مذاکرات میں 17 سالہ جنگ کے خاتمے کے لیے روٹ میپ پر اتفاق رائے ہو گیا جس سے افغانستان میں قیام امن کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں