98

’وہ کہتا تھا کم عمر لڑکیوں کا ریپ کر کے اسے توانائی ملتی ہے‘

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) میکسیکو کے ڈرگ مافیا کے سرغنہ جواکوین ایل شیپو گزمین نے دنیا بھر کی سکیورٹی ایجنسیوں کو تگنی کا ناچ نچا رکھا تھا۔ اسے 9جون 1993ءاور 22فروری 2014ءکو دوبار گرفتار کیا گیا لیکن دونوں بار وہ فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ تیسری بار اسے 8جنوری 2016ءکو گرفتارکیا گیا اور اب وہ امریکہ میں زیرحراست ہے جہاں اس پر مقدمہ چل رہا ہے۔ اس مقدمے میں اس کے منشیات اور انسانی سمگلنگ جیسے مکروہ جرائم کے علاوہ کچھ ایسے انکشافات سامنے آئے ہیں کہ سن کر ہی آدمی کانپ جائے۔

میل آن لائن کے مطابق ایل شیپو کے ساتھ کام کرنے والے عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ ایل شیپو کم عمر لڑکیوں کو منشیات دے کر انہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بناتا تھا۔ وہ ان لڑکیوں کو ’وٹامنز‘ کہتا تھا اور کہا کرتا تھا کہ کم عمر لڑکیوں سے اسے نئی زندگی اور توانائی ملتی ہے۔“

کولمبیاکے منشیات سمگلر الیکس سیفیونتس نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ ”میں 2007ءتک ایل شیپو کے ساتھ رہتا رہا ہوں۔ میں اس بات کا عینی شاہد ہوں کہ وہ 13سال اور اس سے بھی کم عمر لڑکیوں کو نشہ دے کر ان کے ساتھ زیادتی کرتا تھا۔ وہ یہ لڑکیاں ایک نائیکہ سے حاصل کرتا اور اسے فی لڑکی 5ہزار ڈالر (تقریباً 6لاکھ 92ہزار روپے)دیتا تھا۔ اس خاتون کا تعلق میکسیکو کی ریاست سینالووا سے تھا۔“

الیکس نے تفتیش کاروں کو ایل شیپو اور اس خاتون کے ساتھ بنائی گئی اپنی ایک تصویر بھی دی۔الیکس نے بتایا کہ ”جب خاتون ایل شیپو کی پسند کی کوئی لڑکی بھیجتی تو وہ مجھے اس لڑکی کے مشروب میں نشہ آور پاﺅڈر ڈالنے کو کہتا اور پھر اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بناڈالتا۔میں نے ایل شیپو کو ایک کئی بار ایک ایسے شخص سے بھی ملاقات کرتے دیکھا جس سے وہ سانپ کا تیل حاصل کرتا تھا۔“

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں