182

بچے پید اکرنے والا فارم پکڑا گیا

Spread the love

جانوروں کی افزائش نسل کے فارمز کے بارے میں تو ہر کسی نے سن رکھا ہو گا لیکن آپ یہ سن کر سر تھام کر بیٹھ جائیں گے کہ برازیل میں انسانی بچے پیدا کرنے کا ایک فارم پکڑا گیا ہے جہاں لڑکیوں کے ساتھ ایسا ہولناک سلوک کیا جاتا تھا کہ سن کر ہی آدمی کی روح کانپ جائے۔ میل آن لائن کے مطابق یہ فارم برازیل کے ایک نام نہاد مذہبی پیشوا جواﺅ تیکسیرا ڈی فاریا نامی شخص چلا رہا تھا، جو لوگوں کا روحانی علاج بھی کرتا تھا۔ جواﺅ اپنے پیروکاروں میں ’جان آف گاڈ‘ کے لقب سے مشہور تھا۔ بتایا گیا ہے کہ اس کے اس فارم پر لڑکیوں کو جنسی غلام بنا کر رکھا جاتا، ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی جاتی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے دنیا بھر میں بے اولاد لوگوں کے ہاتھ فروخت کر دیئے جاتے تھے۔ ایک لڑکی سے مسلسل 10سال تک بچے حاصل کیے جاتے اور پھر اسے قتل کر دیا جاتا تھا۔

ضرور پڑھیں   ناول بچانے کیلئے آگ میں کود جانے والے امریکی مصنف کی داستان

رپورٹ کے مطابق اس فارم ہاﺅس پر اب تک 600سے زائد خواتین کے ساتھ یہ درندگی ہو چکی تھی۔ڈی فاریا کے اس غیرانسانی کرتوت کا بھانڈا گزشتہ دنوں برازیل کے گلوب ٹی وی نیٹ ورک کے ایک پروگرام میں اس کی درندگی کا شکار ہونے والی 10خواتین نے پھوڑا۔ ان خواتین نے پروگرام میں فارم کے بارے میں تفصیلات بتائیں جس کے بعدڈی فاریا کو گرفتار کر لیا گیا۔ ٹی وی شو میں بٹنکورٹ زہیرا لینیکے نامی خاتون نے بتایا کہ ”تین براعظموں کے ممالک سے تعلق رکھنے والی ایسی خواتین سے بات کر چکی ہوں۔ یہ سب وہ خواتین تھیں جو ڈی فاریا کے فارم سے بچے خرید چکی تھیں۔ ان خواتین نے بتایا کہ انہوں نے 50ہزار ڈالر (تقریباً 69لاکھ روپے)تک کی قیمت میں بچے خریدے۔اس فارم پر غریب خاندانوں کی 14سے 18سالہ لڑکیوں کو رقم کا لالچ دے کر لایا جاتا تھا اور پھر انہیں برازیلی ریاست مینس گریس میں واقع اس فارم میں جنسی غلام بنا کر قید کر لیا جاتا تھا۔ یہ لوگ لڑکیوں کو بھوکارکھتے اور کھانا حاصل کرنے کی ایک ہی شرط ہوتی کہ ایک مرد سے جنسی تعلق استوار کرو اور کھانا لے لو۔یہ لوگ بلیک مارکیٹ میں ان لڑکیوں کے بچے فروخت کرتے تھے۔ “

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں