28

آصف سلیم مٹھا کا حالات حاضرہ پر تجزیہ

عمران خان حکومت چند ووٹوں سے قائم ہوئی پارلیمانی نظام میں اتنے ووٹوں کو اکثریت نہی کہا جا سکتا کیوں ایسی حکومت براے نام حکومت ہوتی ہے جو کوئی بھی بل حزبِ مخالف کے بغیر پاس نہی کروا سکتی چار ماہ سے زائد اس حکومت سے بہت سی غلطیاں سر زد ہو گئی ہیں جنکی واپسی ممکن نہی ن لیگ حکومت نے سال 2018 اور 2019 کا بجٹ پیش کیا پاس کروایا ۔اسد عمر نے آتے ہی نئے بجٹ کا پنگا لے لیا جس نے عمران کی بنی بنائی مقبولیت سائیبان توڑ دیا پھر کئی نی فیسیں حتی کہ سرکاری سکولز جہاں غریب بچے زیر تعلیم ہیں انکے والدین پر اضافی بوجھ ڈال دیا گیا ٹریفک قوانین کو لاگو کرنا معاشرے کو محفوظ بنانا ہوتا ہے مگر جس انداز سے کروایا گیا اس سے سوشل بھرا پڑا ہے کوئی بھی نیا قانون لاگو کروانے کے لئیے تین ماہ کی آگہی مہم کی ضرورت ہوتی ہے جس پر عمل نہی کیا گیا نقصان عمران کی مقبولیت کو پہنچا۔انکروچمینٹ کا عمل وزیرستان سے کراچی تک زیر عمل غلط طریقہ سے کیا گیا لوگ بے گھر بے سروسامان ہو گئے نقصان کس کا ہوا آخر وزیر اعظم ہاوس جاگ گیا اب میڈیا سے خبر غائیب ہے حکومت کیا کر رہی ہے کچھ خبر نہی ۔مہنگائی کے طوفان میں غریب بہہ گئے کسی کو کوئی پروا نہی ۔حکومت نے مکانوں پر ٹیکس لگایا ہوا ہے حکومت ان مکینوں کیا سہولیات فراہم کرتی ہے ؟؟؟؟ کرپشن اور کرپٹ افراد پر ہاتھ ڈالنا چائیے مگر تمام حکومتی مشینری اسی کام پر لگ گئی ہے جو پی ٹی آئی نے وعدے کیے تھے انکی جانب چار آنے بھی توجہ نہی ہے بنیادی صحت کے مراکز اور ملک بھر کے بڑے ہسپتالوں میں ایکسرے مشینیں ۔ایلٹرا سونڈز ۔آپریشن ٹھیٹرز۔کلینکل لباٹریز۔ایمبولیسیں عملے کی کمی وہ ہی کچھ چل رہا ہے جو گزشتہ حکومت کے دور میں تھا تعلیمی میدان کا بھی وہ ہی حال ہے کچھ بہتری نظر نہی آرہی ۔سڑک حادثات میں اضافہ ہو چکا ہے ۔گلی محلے کے جرائم پہلے کی طرح چل رہے ہیں ہمارے نوائےجنگ برطانیہ کے لاہور میں چیف فوٹو جرنلسٹ قصر جمیل بھٹی کو مناواں تھانے سے چند گز کے فاصلے پر لوٹ لیا گیا کار میں انکی اہلیہ بچے بھی تھے ڈاکو سونا نقدی بینک کارڈز موبائل بٹوہ سب بزور گن لے گئے یہ کیسی انصاف حکومت ہے کہ ان کے دور میں وہ بھی لٹ رہے ہیں جو زرداری جیسی ڈاکو حکومت میں بھی محفوظ تھے ۔کراچی میں ٹارگٹ کلینگ پھر شروع ہو گئی ہے حکومت محض فوج اور عدلیہ کے سہارے نہی چل سکتی عوام اگر محفوظ نہی ہیں تو حکومت کس طرح بچ پائےگی ۔ سارا میڈیا زرداری نواز شہباز کے مقدمات کی کہانیوں پر مصروف کر دیا گیا ہے جبکہ دفاتر میں کوئی غریب سائلوں کا پرسان حال نہی ہے وزرا بے اختیار ہیں جس سے کام کی تکلیف کی بات کرو تو کہتے ہیں کہ بس زرہ نیی نیی حکومت ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں