طالبہ کے والد کی تذلیل کرنے والا کلرک خود پاؤں پکڑنے پر مجبور ہوگیا

مٹیاری: طالبہ کے والد کو پاؤں میں پڑ کر معافی مانگنے پر مجبور کرنے والا کالج کلرک خود طالبہ کے والد کے پاؤں پکڑنے پر مجبور ہوگیا۔

گزشتہ روز سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں مٹیاری کے نیو سعید آباد گورنمنٹ ڈگری کالج میں بیٹی کے داخلے اور مارک شیٹ مانگنے پر بااثر کلرک نے باپ کی تذلیل کی اور اسے پاؤں میں گرنے پر مجبور کردیا تھا۔

واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے صوبائی وزیر تعلیم سید سردار شاہ نے ڈائریکٹر کالجز حیدرآباد پروفیسر ڈاکٹر عبدالحمید چنڑ، گورنمنٹ ڈگری کالج کے پرنسپل، بے رحم کلرک اور متاثرہ شخص کو طلب کرلیا تھا۔

آج صوبائی وزیر تعلیم کے دفتر پہنچنے پر کلرک ’جانب کیریو‘ نے بچی کے والد ظفر اللہ سے معافی مانگ لی اور اس کے پاؤں بھی پکڑے اور اس تمام تر واقعے کی ویڈیو بھی نامعلوم شخص نے موبائل کیمرا سے عکس بند کرلی۔

جانب کیریو کا کہنا تھا کہ میں کلرک ہوں اور مظلوم ہوں، میں نے کسی سے کوئی بدتمیزی نہیں کی اور نہ ہی کسی کو اپنے پاؤں میں گرنے پر مجبور کیا، بچی کے والد نے فارم جمع کرایا تھا لیکن ان کی بچی کم نمبرز کی وجہ سے داخلے کی اہل نہیں تھی، میں نے انہیں سمجھایا لیکن یہ نہ مانے اور مجھ سے بدتمیزی کی۔

کلرک کا کہنا تھا کہ میں بچی کے والد کی شکایت کے لیے پرنسپل کے پاس جارہا تھا کہ بچی کے والد نے میرے پاؤں میں گر کر معافی مانگنا شروع کردی۔

دوسری جانب صوبائی وزیر تعلیم سید سردار شاہ نے میڈیا کو بتایا کہ سوشل میڈیا پر فوٹیج وائرل ہونے کے بعد واقعے کا نوٹس لیا اور ریجنل ڈائریکٹر سمیت طالبہ کے والد اور کلرک کو بلایا، تمام افراد کو مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا، ویڈیو ثبوت اور بیانات کی روشنی میں کلرک جانب کیریو کو نوکری سے برطرف کردیا کیوں کہ اس کا عمل کسی طور بھی اس ادارے میں رہنے کے لائق نہیں جب کہ کالج پرنسپل کا بھی تبادلہ کردیا گیا ہے۔

وزیر تعلیم نے کہا کہ بچی کا باپ جس طرح کلرک کے پاؤں پڑا اسی طرح ہم نے کلرک کو کہا کہ وہ طالبہ کے والد کے پاؤں پکڑ کر معافی مانگے تاکہ اس کا غرور کم ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں