بیگم کلثوم نواز کینسر سے لڑتے زندگی کی جنگ ہار گئیں

سابق وزیراعظم نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کا لندن میں انتقال ہو گیا۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے اپنی بھابھی بیگم کلثوم نواز کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ میری بھابھی اور میاں نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز اب ہم میں نہیں رہیں، اناللہ واناالیہ راجعون، اللہ تعالٰی ان کی مغفرت فرمائے، میت لینے کے لیے ہم لندن جائیں گے جو پہلی دستیاب پرواز سے پاکستان منتقل کی جائے گی۔

بیگم کلثوم نوازکو گزشتہ برس گلے کا کینسر تشخیص ہوا تھا اور وہ ایک سال سے لندن کے اسپتال میں زیر علاج تھیں۔ منگل کی صبح طبیعت خراب ہونے پر انہیں آئی سی یو منتقل کیا گیا جہاں ان کا انتقال ہوگیا، ان کی عمر 68 سال تھی۔

نواز شریف کو نااہل قرار دیئے جانے کے بعد بیگم کلثوم نواز نے این اے 120 سے ضمنی انتخاب جیتا تھا تاہم بیرون ملک ہونے کے باعث وہ حلف نہیں اٹھا سکیں۔

بیگم کلثوم نواز 29 مارچ 1950ء کو لاہور کے علاقے مصری شاہ میں ایک کشمیری خاندان میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے مدرستہ البنات اسکول مصری شاہ سے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور جامعہ پنجاب سے اردو میں ایم اے کیا۔ اپریل 1971 میں ان کی نواز شریف سے شادی ہوئی جو لاہور کی معروف کاروباری شخصیت میاں شریف کے صاحبزادے ہیں۔ بیگم کلثوم نواز اپنے شوہر نواز شریف سے ایک سال چھوٹی تھیں اور انہیں تین مرتبہ خاتون اوّل ہونے کا اعزاز حاصل رہا۔

کلثوم نواز پاکستان مسلم لیگ کی صدر بھی رہیں
سال 1999ء میں فوجی بغاوت کے بعد وزیر اعظم نواز شریف کی قید و بند اور جلاوطنی کے دوران وہ 1999ء سے 2002ء تک پاکستان مسلم لیگ کی صدر بھی رہیں اور مشکل وقت میں پارٹی کو سنبھالا۔

کلثوم نواز نے پسماندگان میں 4 بچے چھوڑے ہیں جن میں حسن، حسین، مریم نواز اور اسما نواز شامل ہیں۔ کلثوم نواز کے شوہر نواز شریف، بیٹی مریم اور داماد کیپٹن (ر) صفدر ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا یافتہ ہونے کے باعث اڈیالہ جیل میں قید ہیں جب کہ دو بیٹے حسن اور حسین نواز اسی مقدمے میں اشتہاری ہیں اور لندن میں مقیم ہیں۔

وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سمیت تمام سیاسی و اہم شخصیات نے بیگم کلثوم نواز کے انتقال پر تعزیت کرتے ہوئے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے نوازشریف کی اہلیہ محترمہ کلثوم نوازکی وفات پردکھ کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ کلثوم نوازبہادرخاتون تھیں۔

نواز شریف، مریم، صفدر کی پیرول پر رہائی کا امکان
اطلاعات کے مطابق میت واپس لانے اور جنازے میں شرکت کے لیے نوازشریف کے لندن روانگی سے متعلق قانونی پہلوؤں پر غور کیا جارہا ہے۔ تاہم ای سی ایل میں نام ہونے کے باعث نوازشریف کو بیرون ملک جانے کے لیے ہائیکورٹ سے خصوصی اجازت لینی ہوگی۔ قوی امکان ہے کہ نواز شریف اہل خانہ سے مشاورت کے بعد ہائیکورٹ سے رجوع کریں گے۔

جیل قوانین کے تحت کسی بھی قیدی کے قریبی رشتے دار کے انتقال پر نمازجنازہ میں شرکت کے لیے محدود وقت کے لیے پیرول پر ضمانت دی جاسکتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف ، مریم نواز اور کیپٹن صفدر پیرول پر ضمانت کی درخواست ڈپٹی کمشنر کو دیں گے جسے یہ اجازت دینے کا اختیار حاصل ہے۔

’’کلثوم نواز کے لواحقین کو قانون کے مطابق سہولیات فراہم کی جائیں گی‘‘
دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے نوازشریف کی اہلیہ محترمہ کلثوم نواز کی وفات پر دکھ کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ کلثوم نواز بہادر خاتون تھیں، حکومت محترمہ کلثوم نواز کے لواحقین کو قانون کے مطابق تمام سہولیات فراہم کرے گی۔ وزیراعظم کی جانب سے برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن کو مرحومہ کے لواحقین کو تمام ضروری سہولیات کی فراہمی میں معاونت کرنے کی بھی ہدایت کردی گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں