سابق فرانسیسی صدر کے الزام پر اپوزیشن کا مودی سے استعفے کا مطالبہ

نئی دہلی: فرانس کے سابق صدر نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی پر من پسند شخصیت کو نوازنے کا الزام عائدکردیا جس پر اپوزیشن جماعتوں نے مودی کو کرپٹ قرار دیتے ہوئے استعفے کا مطالبہ کردیا۔

بھارت اور فرانس کے درمیان لڑاکا طیاروں کی ڈیل میں کرپشن کے معاملے نے ایک مرتبہ پھر سر اٹھا لیا، فرانس کے ساتھ رافیل طیاروں کی ڈیل مودی سرکار کے لیے گلے کی ہڈی بن گئی۔ فرانس کے اُس وقت کے صدر فرانکوئس ہولاند نے ایک بیان میں مودی سرکار پر ڈیل کے دوران اپنے دوست انیل امبانی کی کمپنی کو فائدہ پہنچانے کا الزام لگایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مودی حکومت نے فرانسیسی حکومت کو امبانی کی کمپنی Reliance Defense کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔

ضرور پڑھیں   سشما سوراج کی او آئی سی میں پاکستان کا نام لیے بغیر تنقید

بی جے پی حکومت نے 2016ء میں فرانس سے 36 لڑاکا رافیل طیارے خریدنے کا معاہدے کیا تھا جس کی مالیت 8 اعشاریہ 7 ارب ڈالر تھی، معاہدے میں فرانسیسی کمپنی کی جانب سے بھارتی کمپنی کے ساتھ مل کر بھارت میں طیارے کے پرزے بنانے کے کارخانے لگانے کی شق بھی شامل تھی۔
اس بیان کے بعد بھارت کی اپوزیشن جماعتوں اور میڈیا نے توپوں کا رخ مودی سرکار کی طرف کر دیا ہے۔ کانگریس رہنما راہول گاندھی نے مودی کو کرپٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مودی نے بھارتی فوج کے خلاف سازش کی، بھارتی قوم کے ذہن میں یہ بات ہے کہ دیش کا چوکیدار چور ہے، مودی نے اپنے دوست کی جیب بھرنے کے لیے اسے ڈیل کا حصہ بنایا۔

ضرور پڑھیں   کابل میں انتخابی مرکز پر خودکش حملے میں 31 افراد ہلاک

انہوں نے مزید کہا کہ اب مودی معاملے پر وضاحت دیں یا کھل کر کہیں کہ سابق فرانسیسی صدر جھوٹ بول رہے ہیں، خاموشی سے معاملہ ختم نہیں ہوگا۔ اسی ضمن میں عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجری وال کا کہنا ہے کہ نریندر مودی نے بھارتی قومی مفادات کی دھجیاں اڑا دی ہیں۔

فرانس کے سابق صدر کی جانب سے مودی سرکار پر دوست کو نوازنے کے الزام کا بھانڈہ پھوٹنے کے بعد بھارت میں سوشل میڈیا پر ’ میرا وزیر اعظم چور ہے‘ ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔

کانگریس رہنما راہول گاندھی کی جانب سے مودی کو چور کہنے کے بعد ٹویٹر پر ہیش ٹیگ ’میرا وزیر اعظم چور ہے‘ پر 65 ہزار ٹویٹسکی جا چکی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں