کابینہ اجلاس؛ نواز شریف اور مریم کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا فیصلہ

اسلام آباد: وفاقی کابینہ کا پہلا اجلاس وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں ہوا جس میں نواز شریف کے بیٹے حسن، حسین اور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو گرفتار کرکے پاکستان لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں وفاقی کابینہ کا پہلا اجلاس ہوا جس میں نوازشریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کا نام ای سی ایل میں ڈالنے اور حسن نواز، حسین نواز اور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو گرفتار کرکے واپس پاکستان لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

نواز شریف اور مریم نواز کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا فیصلہ؛
کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں وزیراطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ سابق وزیراعظم نوازشریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کے نام ای سی ایل میں ڈالے جائیں گے جب کہ حسن نواز، حسین نواز اور اسحاق ڈار قومی مجرم ہیں، ان کو بھی واپس پاکستان لایا جائے گا۔ اس حوالے سے ریڈ وارنٹ جاری کیے جاچکے ہیں جب کہ وزارت قانون اور داخلہ کو ریڈ وارنٹ پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے ہدایت کی ہے۔

وزرا سے بیرون ملک علاج کی خدمات واپس؛

فواد چوہدری نے کہا کہ تمام کابینہ اراکین سے بیرون ملک علاج کی خدمات واپس لے لی ہیں جس کے بعد کوئی بھی کابینہ ارکان سرکاری خرچ پر بیرون ملک علاج نہیں کراسکے گا۔

وزیراعظم ہاؤس کی اضافی گاڑیوں کی نیلامی؛

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ وزیراعظم ہاؤس کی اضافی گاڑیوں کی نیلامی کی منظوری دیدی گئی ہے اور اس سلسلے میں جلد اعلان کیا جائے گا۔

سرکاری عمارتوں کا استعمال؛

وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ ڈیڈ پراپرٹیز کوعوام کے استعمال میں لایا جائے گا، حکومتی ملکیت میں 2 کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں جو اس حوالے سے سرکاری عمارتوں کا جائزہ لے گی کہ ان عمارتوں کو کس طرح سے عوام کی فلاح کے لیے استعمال کیا جائے۔ اس کے علاوہ ان عمارتوں میں رہنے والے نچلے درجے کے ملازمین کو نوکریوں سے نہیں نکالا جائے گا۔

وزیراعظم اور وزرا کے بیرون ملک دورے محدود؛

وزیراعظم اور وزرا کے بیرون ملک دوروں کے حوالے سے وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے وزرا اور بیوروکریٹس کے بیرون ملک دوروں کو محدود کرنے کا حکم دیا ہے اور خود وزیراعظم اگلے 3 مہینے تک کوئی دورہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔

بیرون ملک سے پیسہ واپس لانے کیلئے ٹاسک فورس تشکیل؛

فواد چوہدری نے کہا کہ ایون فیلڈ پراپرٹیز پاکستان کے عوام کی ملکیت ہے، وزارت قانون کو ہدایت دی ہے کہ ان جائیدادوں کے حوالے سے برطانوی حکومت سے رابطہ کیا جائے اور یہ پیسہ پاکستان لایا جائے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ کابینہ کے اجلاس میں سابق صدر پرویز مشرف کے معاملے پر کوئی بات نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر شاہ محمود قریشی کو او آئی سی میں خط لکھنے کو کہا ہے جب کہ ہماری خارجہ پالیسی ملک کے ساتھ ہوگی۔

کابینہ اجلاس میں عمران خان کا خطاب؛

کابینہ کے پہلے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے کابینہ اراکین کو کمر کسنے کی ہدایت کردی ہے۔ اس موقع پر کابینہ اراکین سے خطاب میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 100 روزہ پلان پر عملدرآمد تک ہنگامی صورتحال کی سی کیفیت ہو گی،کابینہ کے اراکین کو اپنی وزارتوں میں پورا اختیار دیتا ہوں لیکن نتائج بھی چاہتا ہوں۔

عمران خان نے کہا کہ ہم نے روایتی انداز سے حکومت کے معاملات نہیں چلانے ہیں، بیرون ملک سے لوٹی رقم لانے کے لیے کابینہ اراکین کو پوری ہمت کے ساتھ کام کرنا ہو گا، کوئی وزارت چھوٹی یا بڑی نہیں ہوتی، شہریوں کی زندگیوں میں تبدیلی لانا مقصد ہے جب کہ کرپشن کے خاتمے کے لیے کابینہ کے تمام اراکین کو کردار کرنا ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں