جسٹس شوکت عزیر صدیقی سے دوران سماعت وکیل کی بدتمیزی

اسلام آباد: لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے دائر درخواست کی سماعت کے دوران جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے ساتھ وکیل سعید خورشید نے بدتمیزی کی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر سماعت جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کی، ایس ایس پی آپریشنز نجیب الرحمان بھگوی عدالت میں پیش ہوئے، جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیئے کہ تمام افرد آزاد ماحول میں بغیر کسی خوف و خطر کے بیان ریکارڈ کرائیں، اگر کسی کو کوئی خوف ہے تو دماغ سے نکال دیں۔

پولیس کی جانب سے بتایا گیا کہ 31 مارچ 2018 کو عثمان سلیم کو اغوا کیا گیا، جو اب تک لاپتہ ہے، جسٹس شوکت صدیقی نے ریمارکس دیئے کہ اس معاملے میں جو بھی ملوث ہے سامنے آنا چاہئے اور مغوی کے گھر والوں کی حفاظت کے لیے پولیس اقدامات کرے، جسٹس شوکت صدیقی نے انسپکٹر پولیس کو عدالت میں موجود تمام متعلقہ افراد کے بیان ریکارڈ کرکے پیش کرنے کا حکم دیا۔
اس خبرکوبھی پڑھیں: جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے ساتھ انصاف ہوگا، چیف جسٹس

دوران سماعت جسٹس شوکت عزیز صدیقی اور وکیل سعید خورشید کے درمیان تلخ کلامی ہوگئی، جسٹس شوکت صدیقی نے دورانِ ریمارکس مداخلت پر وکیل سے کہا کہ آپ کی درخواست اعتراض کے ساتھ مقرر ہے، اپنی باری پر آپ جتنے مرضی دلائل دیں، اور باری آنے پرمیرے یا کورٹ کے خلاف دل کھول کے بول لیجیئے گا۔ وکیل سعید خورشید نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں ہر بندہ مرغا بن کر آئے، میں وکالت کرتا ہوں چھولے نہیں بیچتا، آپ کے مشکل وقت میں آپ کے ساتھ کھڑا ہوں گا۔

جسٹس شوکت صدیقی نے کہا کہ جہاں باقی میرے خلاف کھڑے ہیں آپ بھی کھڑے ہو جائیں، میں اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا، آپ عدالت کے خلاف توہین آمیز ریمارکس دے رہے ہیں، میں آپ کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتا ہوں، آپ کا لائسنس بھی فوری منسوخ کرنے کا حکم دوں گا۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے ریمارکس پر عدالت میں کھڑے دیگر وکلا نے مداخلت کی اور وکیل سعید خورشید سے معافی مانگنے اور معاملہ ختم کرنے کی استدعا کی۔ وکیل سعید خورشید نے مشروط معافی مانگتے ہوئے کہا کہ میں آپ کی ذات سے معافی مانگتا ہوں جج سے نہیں۔ جسٹس شوکت صدیقی نے کہا کہ آپ کو میری ذات سے نہیں جج سے معافی مانگنا ہوگی، وکلاء کے سمجھانے اور سعید خورشید کی معافی پر معاملہ ختم کردیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں