نوازشریف اورمریم نواز کو میڈیکل کے لیے اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا

اسلام آباد: احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے سابق وزیراعظم نوازشریف کو اڈیالہ جیل اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کو سہالہ ریست ہاؤس بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

احتساب عدالت سے ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا پانے والے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز نجی ایئرلائن کی پرواز ای وائے 423 کے ذریعے وطن واپس پہنچے اور جیسے ہی ان کا طیارہ لاہور ایئرپورٹ پر لینڈ ہوا، وہاں موجود نیب ٹیم نے دونوں کو گرفتار کرلیا جب کہ ان کے پاسپورٹ بھی ضبط کرلیے گئے۔

نوازشریف اور مریم نواز کو گرفتاری کے بعد خصوصی چارٹر طیارے کے ذریعے اسلام آباد ایئرپورٹ روانہ کردیا گیا ، خصوصی طیارہ بے نظیر ایئرپورٹ پر لینڈ کرے گا جہاں سے انہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے اڈیالہ جیل لے جایا جائے گا جب کہ ایوی ایشن ڈویژن کی جانب سے نیب ٹیم کو خصوصی پاس جاری کردیے گئے ہیں، جیل متنقلی سے پہلے نوازشریف اور مریم نواز کا طبی معائنہ کیا جائے گا۔
دوسری جانب احتساب عدالت کے جج محمد بشیر فیڈرل جوڈیشل کمپلکس پہنچے اس موقع پر نیب پراسیکیوشن ٹیم کے سربراہ سردار مظفر عباسی بھی وہاں موجود تھے تاہم میڈیا نمائندوں کو جوڈیشل کمپلکس میں داخلے سے روک دیا گیا۔

احتساب عدالت نے نوازشریف اور مریم نواز کے گرفتاری کے وارنٹ جاری کردیے، جج محمد بشیر نے نوازشریف کو اڈیالہ جیل اور مریم نواز کو سہالہ ریسٹ ہاؤس بھیجنے کا حکم دیا، سہالہ ریسٹ ہاؤس کو سب جیل قرار دیا گیا جب کہ احتساب عدالت نے مجسٹریٹ کو اپنا نمائندہ مقرر کردیا۔

فلائٹ شیڈول کے مطابق نواز شریف اور مریم نواز لندن سے براستہ ابوظہبی لاہور کے لیے روانہ ہوئے تھے، ابوظہبی میں مختصر قیام کے بعد نجی پرواز کو لاہور کے لیے روانہ ہونا تھا مگر وہاں ان کا قیام طویل ہوگیا جس پر مریم نواز کا کہنا تھا کہ پرواز میں پراسرار تاخیر کی گئی۔آخرکار تقریباً 6 بجے نوازشریف کو لانے والا طیارے نے ابوظہبی سے لاہور کے لیے اڑان بھری اور 9 بجے کے قریب لاہور ایئرپورٹ پر لینڈ ہوا۔

پرواز کے دوران مریم نواز نے اپنے والد نوازشریف کا ویڈیو پیغام سوشل میڈیا پر شیئر کیا جس میں نواز شریف نے کہا پاکستان ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے میں یہ قربانی آپ کی نسلوں اور پاکستان کے مستقبل کے لیے دے رہاہوں۔

مسلم لیگ (ن) کے کارکن چلو چلو ایئر پورٹ کے نعرے پر لبیک کہتے ہوئے لاہور کے مختلف علاقوں سے ہوتے ہوئے ریلی کی شکل میں ایئرپورٹ پہنچنے کے لیے نکلے جب کہ لیگی کارکن اپنے قائد کے استقبال کے لئے پرجوش نظر آئے۔

ایک جانب مسلم لیگ (ن) کے کارکن نوازشریف کے استقبال کے لیے پرجوش تھے تو دوسری جانب پنجاب میں (ن) لیگی کارکنوں کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ بھی جاری رہا، لاہور کے علاقے فیروزوالا میں مسلم لیگ (ن) کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران شاہدرہ فیروزوالا فیکٹری ایریا میں پولیس نے 50 متوالے گرفتار کیے، اعوان ٹاؤن یوسی 105 کے وائس چیئرمین خالد حبیب خان اور کونسلر چوہدری خادم حسین گجر کے گھر پربھی پولیس نے چھاپے مارے جب کہ اعوان ٹاؤن سے مسلم لیگ یوتھ ونگ لاہور کے نائب صدر میاں ذوہیب منظورکو گرفتارکیا۔

راولپنڈی پولیس نے گزشتہ رات مسلم لیگ (ن) کے متعدد کارکنوں کو حراست میں لیا۔ فیصل آباد میں پولیس نے رات بھر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 100 سے زائد کارکن گرفتار کیے۔ کینال پارک میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا اشفاق چاچو کے گھر پر پولیس نے چھاپہ مارا تاہم وہ بچ نکلے، بہاولپورمیں سابق وفاقی وزیر بلیغ الرحمن کے گھر کو پولیس نے گھیرے میں لے لیا اور تمام دروازے بند کر کے پولیس اہلکار کھڑے کر دیے گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں