افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں سے پاکستان میں حملے ہورہے ہیں، آرمی چیف

میونخ: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں سے پاکستان میں حملے ہورہے ہیں یہاں مقیم افغان مہاجرین کی واپسی سے دونوں ممالک میں سیکیورٹی صورتحال بہتر ہوگی۔

جرمنی میں ’’میونخ سیکیورٹی کانفرنس‘‘سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ خود پر قابو رکھنا بہترین جہاد ہے لیکن جہاد کو انتہا پسندی کے پرچار کے لیے استعمال کیا جارہا ہے، پوری دنیا سے نوجوانوں کو جہاد کے لیے استعمال کیا گیا اس انتہا پسندی کو جہاد نہیں بلکہ انتہاد پسندی کہنا چاہیے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ ایک وقت تھا جب پاکستان سیاحوں کی پسندیدہ جگہ تھی لیکن اب پاکستان دہشت گردی کا شکار ہے،افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں، خفیہ ایجنسیاں بھی داعش کے افغانستان میں پنجے گاڑنے کی تصدیق کر رہی ہیں، پاکستان میں گزشتہ برسوں میں 130 حملوں میں سے 123 افغانستان سے کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم داعش کو پاکستان میں داخلے سے روکنے میں کامیاب ہوئے، افغان بارڈر کے ساتھ بائیو میٹرک سسٹم نصب کیا اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے نیشنل ایکشن پلان بنایا، پاکستان میں نفرت انگیز تقاریر اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے خلاف اصلاحات کی گئیں۔
سربراہ پاک فوج نے کہا کہ پاکستان کا امن افغانستان میں امن کی ضمانت ہے، خطے میں امن کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک کی زمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہ ہو، تمام فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے ہر ممکن کو شش کر رہے ہیں، دہشت گردی کو مشترکہ کوششوں سے شکست دی جا سکتی ہے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے زور دیا کہ پاکستان میں مقیم 27 لاکھ افغان مہاجرین کی واپسی سے پاکستان اور افغانستان کی سیکیورٹی صورتحال میں مزید بہتری آئے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں