کنوینر شپ چھوڑنے کے لیے تیار ہوں، فاروق ستار

کراچی: متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ فاروق ستار نے کہا ہے کہ اگر معاملات ان کے جانے سے بہتر ہوتے ہیں تو وہ کنوینر شپ چھوڑنے کے لیے تیار ہیں۔

پی آئی بی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ بہادر آباد والوں نے جب لوگوں کے سینیٹ کے ناموں کا اعلان کردیا تو میرے جانے کا کیا جواز راہا؟ حالانکہ میں نے ابھی تک ناموں کا اعلان نہیں کیا، سینیٹ کے ٹکٹ کی بندر بانٹ کا الزام عائد کرنے والے خود کیا کررہے ہیں؟

فاروق ستار نے کہا کہ 7 فروری سے ثالثی کی جارہی ہے جس کے لیے فارمولہ بھی طے ہوگیا تھا جس کے بعد الیکشن کمیشن کو خط لکھنا انتہائی نامناسب عمل ہے اسے خط لکھنا ابھی ضروری نہیں تھا، کاغذات جمع کراتے وقت 22 ارکان اسمبلی میرے ساتھ تھے میں پارٹی کی تقسیم نہیں چاہتا محض ان ٹکٹو ں کی وجہ سے پارٹی تقسیم نہیں ہونی چاہیے اگر میرے جانے سے معاملات بہتر ہوتے ہیں تو میں پارٹی چھوڑنے کے لیے بھی تیار ہوں۔
سربراہ ایم کیو ایم پاکستان نے رابطہ کمیٹی کا جاری کردہ ایک خط پڑھ کر سنایا جس کے مطابق سینیٹ، قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ٹکٹوں سمیت دیگر اختیار ات خالد مقبول صدیقی کے حوالے کردیے گئے ہیں۔ اس پر فاروق ستار نے کہا کہ اس خط کے ہوتے ہوئے میں کیسے بہادر آباد جا کر اجلاس کی صدارت کرتا؟ مجھے تو رابطہ کمیٹی نے 2023ء تک چھٹی پر بھیج دیا ہے۔

فاروق ستار نے کہا کہ میں خود بہادر آباد جانا چاہتا ہوں مگر مجھے جانے نہیں دیا جارہا میں پارٹی تقسیم نہیں کررہا جو لوگ تقسیم کررہے ہیں وہ سب کے سامنے ہیں۔

اس سے قبل متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے پارٹی کی موجودہ صورتحال پر تحریری بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ بہادر آباد میں جو کچھ ہورہا ہے وہ پارٹی آئین کے خلاف ہے ، رابطہ کمیٹی کے طرز عمل پر شہید کارکنان کی ارواح اور اسیروں سے معافی مانگتا ہوں۔

فاروق ستار نے کہا کہ سینیٹ کی سیٹ کا بہانہ بناکر سب کچھ کیا جارہا ہے البتہ کارکنان اور عوام اتحاد برقرار رکھیں جب کہ بہادر آباد جاؤں گا یا نہیں کچھ دیر میں واضح ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ نہ چاہنے کے باوجود اب بہت سی باتیں عوام میں کرنا پڑیں گی۔

اس سے قبل فاروق ستار نے آج بہادرآباد جانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ سربراہ کی حیثیت سے رابطہ کمیٹی اجلاس کی صدارت کروں گا

واضح رہے کہ کامران ٹیسوری کو سینیٹر بنانے کے معاملے پر ایم کیو ایم پاکستان 2 دھڑوں میں تقسیم ہوگئی ہے جب کہ رابطہ کمیٹی کی جانب سے کامران ٹیسوری کی رکنیت معطل کرنے کے بعد معاملہ مزید شدت اختیار کرگیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں