ٹیکساس کے اسکول میں فائرنگ سے 10 افراد ہلاک

ٹیکساس: امریکی ریاست ٹیکساس کے اسکول میں ایک شخص نے گھس کر اندھا دھند فائرنگ کردی نتیجے میں 10 سے زائد افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے پولیس نے حملہ آور کو گرفتار کرلیا۔

واقعہ ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن کے ہائی اسکول میں پیش آیا جس میں ایک نامعلوم شخص نے اسکول میں گھس کر اندھا دھند فائرنگ کردی۔ واقعے کے فوری بعد پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کی درجنوں گاڑیوں اور تین ہیلی کاپٹرز نے اسکول کو گھیر لیا جب کہ امدادی ادارے بھی پہنچے بعدازاں لاشوں اور زخمیوں کی منتقلی شروع کردی۔

حکام کے مطابق فائرنگ ہوتے ہی لڑکوں نے کلاس سے باہر دوڑ لگادی اور الارم بجادیا جس پر پورے اسکول سے طلبا اور اساتذہ جان بچا کر باہر کی جانب بھاگ نکلے۔ بعدازاں پولیس نے باہر آنے والے تمام طلبا کو اسکول کے باہر جمع کرکے ان کے بیگ چیک کیے جیسا کہ اوپر تصویر میں نظر آرہا ہے۔

اسکول کے اسسٹنٹ پرنسپل کرس رچرڈ سن نے میڈیا کو بتایا کہ پولیس نے حملہ آور کو گرفتار کرلیا ہے۔

سانتا فی ہائی اسکول کے طالب علم عینی شاہد کے مطابق آرٹ کی کلاس جاری تھی کہ اس دوران ایک شخص چلتا ہو ا اندر داخل ہوا اور اس نے اچانک فائرنگ کردی، ایک لڑکی کی ٹانگ میں گولی لگی، حملہ آور کے ہاتھ میں شاٹ گن تھی۔

قریبی واقع اسپتال کے ترجمان نے اسکول سے زخمی افراد کی منتقلی کی تصدیق کی ہے تاہم ترجمان نے زخمیوں کی تعداد بتانے سے انکار کردیا۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری سارا سینڈرز نے کہا ہے کہ ٹیکساس فائرنگ کے واقعے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بریفنگ دی گئی ہے اور مسلسل آگاہ کیا جارہا ہے۔ قبل ازیں ٹرمپ نے کہا تھا کہ ابتدائی اطلاعات ٹھیک نہیں ہیں خدا خیر کرے۔

ہیرس کاؤنٹی کے شیرف کا کہنا ہے کہ فائرنگ کرنے والا اسی اسکول کا طالب علم ہے جسے حراست میں لے لیا گیا ہے، ہلاک ہونے والوں میں اکثریت طالب علموں کی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں