ٹرمپ کا غیر قانونی تارکین وطن کے معاہدے کو ختم کرنے کا اعلان

واشنگٹن: امریکی صدر ٹرمپ نے غیر قانونی تارکین وطن کے معاہدے کو ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے شمالی امریکا کے آزاد تجارت کے معاہدے ’نافٹا‘ کو بھی ختم کرنے کا عندیہ دے دیا۔

امریکی صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ میکسیکو کے ساتھ امریکی سرحد پر سیکیورٹی اور نگرانی کے انتظامات ناکافی ہیں جب کہ امریکا کے امیگریشن سے متعلق ’ احمقانہ نرم قوانین ‘ کا فائدہ بھی اُٹھایا جا رہا ہے جس کی وجہ سے بارڈر پٹرول ایجنٹس اپنا کردار موثر طریقے سے انجام نہیں دے پا رہے۔

امریکی صدر نے کہا کہ مذکورہ وجوہات کی وجہ سے میکسیکو سے تارکین وطن کے قافلے کے قافلے امریکا میں داخل ہو رہے ہیں جس سے نبرد آزما ہونے کے لیے ’ڈاکا‘ (Deferred Action for Childhood Arrivals) معاہدے کو منسوخ کردیا جائے گا اور اس طرح کے دیگر معاہدے نہیں کیے جائیں گے۔

ٹرمپ نے کہا کہ ایسے افراد جو بچپن سے امریکا میں مقیم ہیں اور اپنے والدین کے ہمراہ یہاں آئے تھے اب انہیں رہائش اور شہریت کی قانونی حیثیت دیے جانے کا کوئی معاہدہ نہیں ہو گا، انہیں ’ڈریمرز‘ یعنی خواب دیکھنے والا ہی سمجھا اور پکارا جائے گا۔

امریکی صدر نے شمالی امریکا کے آزاد تجارت کے معاہدے نافٹا (North American Free Trade Agreement) کو بھی ختم کرنے کا عندیہ دیا جس کے لیے ان دنوں کینیڈا اور میکسیکو سے بات چیت بھی جاری ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ میکسیکو نے تارکین وطن کو روکنے کے لیے ناکافی اقدامات کیے ہیں اگرتارکین وطن اسی طرح امریکا میں داخل ہوتے رہے تو امریکا نافٹا معاہدہ توڑ کر ان کے پیسے روک دے گا اس لیے اب میکسیکو کی سرحد پر دیوار بنانے کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ ’ڈاکا‘ پروگرام سابق صدر براک اوباما کے دور حکومت 2012ء میں وضع کیا گیا تھا اور موجودہ صدر ٹرمپ نے پہلے بھی منسوخ کرنے کی کوشش کی تھی۔

یہ قانون اُن لوگوں کے بارے میں تھا جو اپنے بچپن میں والدین کے ساتھ امریکا آئے تھے اور اُن کے والدین کے پاس قانونی دستاویزات نہیں تھیں، اس قانون کے تحت وہ ڈی پورٹ ہونے سے بچتے رہے اور اُنہیں کام کرنے کا اجازت نامہ بھی ملتا رہا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں