جوڈیشل مارشل لاء کی باتیں منصوبہ بندی کے تحت اڑائی جارہی ہیں، چیف جسٹس

اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ جوڈیشل مارشل لاء کی باتیں منصوبہ بندی کے تحت اڑائی جارہی ہیں۔

اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ آئین کے کسی حرف پر آنچ نہیں آنے دیں گے، ملک میں جمہوریت اور آئین کی پاسداری ہوگی، میرے ہوتے ہوئے آئین سے انحراف نہیں ہوگا۔

“آئین میں الیکشن کے التوا کی کوئی گنجائش نہیں”
چیف جسٹس نے کہا کہ ہم آئین پر کوئی حرف نہیں آنے دیں گے، آئین میں الیکشن کے التوا کی کوئی گنجائش نہیں، انتخابات آئین کے مطابق مقررہ وقت پر ہوں گے۔ آئین میں کسی مارشل لاء کی گنجائش نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جوڈیشل مارشل لاء صرف ایک لفظی سوچ ہے، اس سوچ پر صرف ہنسی ہی آسکتی ہے، ایسی باتیں منصوبہ بندی کے تحت اڑائی جارہی ہیں، یہ وقت نہیں کہ ہم ایسی غلاظت ماتھے پر لگائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں