انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کا احتجاج

اسلام آباد: 2018 کے عام انتخابات میں دھاندلی کیخلاف اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے دفتر کے سامنے اپوزیشن جماعتوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں پیپلز پارٹی اور ایم ایم اے سمیت 7 جماعتوں نے شرکت کی۔

انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف تمام اپوزیشن جماعتوں نے الیکشن کمیشن اسلام آباد کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں پیپلز پارٹی اور ایم ایم اے سمیت 7 جماعتیں شریک تھیں۔ انتخابات میں دھاندلی کے خلاف احتجاجی ریلی بھی نکالی گئی جس میں راجا ظفرالحق، محمود خان اچکزئی، مولانا عبدالغفور حیدری، مشاہداللہ خان، افرا سیاب خٹک سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی جب کہ الیکشن کمیشن کے باہر مظاہرین نے جعلی الیکشن کے نعرے لگائے۔

جے یو آئی (ف) کے مختلف شہروں میں مظاہرے؛
دوسری جانب مبینہ دھاندلی کے خلاف جے یوآئی کی جانب سے بلوچستان اور کے پی کے مختلف شہروں میں بھی مظاہرے کئے گئے، بنوں، مستونگ اور کوئٹہ سمیت مختلف شہروں میں کارکنوں نے احتجاج کیا اور اس دوران انڈس ہائی وے، کوئٹہ کراچی ہائی وے، اور تفتان سمیت زیارت قومی شاہراہ بند کردی گئیں۔
پی پی کا الیکشن کمیشن سے مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ؛
اس موقع پر پیپلزپارٹی کی رہنما شیریں رحمان نے الیکشن کمیشن سے مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب کو پارلیمان میں حلف لینے پر آمادہ کریں گے اور پارلیمنٹ میں جاکر سیاسی جماعتوں کو متحد کریں گے۔ سابق وزیراعظم اور رہنما پیپلزپارٹی یوسف رضاگیلانی نے کہا کہ، 2018 کے انتخابات میں تاریخ کی بدترین دھاندلی ہوئی، پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں اس انتخابات کو مسترد کرتی ہیں۔

پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ نے کہا کہ ہم عمران خان کو موقع دے رہے ہیں کہ وہ لوگوں سے کیے گئے وعدے 100 دنوں میں پورے کریں، ملکی مسائل کو درست کریں جب کہ ہم ہر مسئلہ پارلیمنٹ میں اٹھائیں گے۔

ن لیگی رہنما راجہ ظفرالحق؛
مسلم لیگ (ن) کے رہنما راجا ظفرالحق نے کہا کہ الیکشن کے نتائج عوام یا ووٹرز کی رائے نہیں، ہم دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ عوام اس الیکشن کو مسترد کرتے ہیں، الیکشن کمیشن کو اس کی زمہ داری پوری نہیں کرنے دی گئی جب کہ ووٹ کو عزت نہ دینے والوں نے پاکستان کا نقصان کیا۔

سابق وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ دوبارہ کاونٹنگ ہمارا بنیادی حق ہے، جسے ہم سے دور کیا جا رہا ہے، ثابت ہو رہا ہے کہ عمران خان جعلی مینڈیٹ پر حکومت میں آ رہے ہیں، وہ ملک کی نمائندگی کیسے کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں