امریکی تاجر کا ٹرمپ کی صدارت کے بعد سے خبریں سننے کا بائیکاٹ

اوہایو: امریکا میں ایک کامیاب بزنس مین ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد اتنے دلبرداشتہ ہوگئے کہ انہوں نے اپنی ملازمت چھوڑ کر خبریں سننے اور پڑھنے سے بھی منہ موڑ لیا۔

ایرک ہیگرمین مشہور کمپنی نائکی میں ایگزیکٹو تھے کہ ٹرمپ کے منتخب ہونے کے بعد انہوں نے ملازمت کو خیرباد کہہ دیا اور اوہایو کے ایک دیہی علاقے میں ایک فارم سے وابستہ ہوگئے ساتھ ہی انہوں نے تمام خبروں سے ناطہ توڑ لیا۔

انہوں نے آخری خبر ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے کی سنی تھی۔ پہلے انہوں نے وقتی طور پر خبروں کے بائیکاٹ کا اعلان کیا لیکن اب ٹرمپ کے ایک سال مکمل ہونے کے بعد بھی وہ خبروں کی جانب نہیں پلٹے۔ اب وہ خبروں سے مکمل طور پر دور رہنے کے بعد خود کو ذہنی و نفسیاتی طور پر بہتر تصور کرتے ہیں۔
ہیگرمین نے اپنی اس عادت کے متعلق اخباری نمائندوں کو بتایا کہ اب انہیں یوں لگتا ہے کہ وہ ایک ڈریکولا ہیں اور ٹرمپ کی خبر انہیں اسی طرح جلا کر راکھ کردے گی جس طرح صبح کی پہلی کرن ویمپائر کو جلاکر بھسم کردیتی ہے۔

ہیگرمین اب اوہایو میں اپنے فارم میں مگن رہتے ہیں اور ایک مصروف ترین کاروباری زندگی گزارنے کے باوجود اخبار نہیں پڑھتے اور سوشل میڈیا سے بھی مکمل طور پر دور رہتے ہیں۔ ہیگرمین نے اپنے دوستوں کو سختی سے منع کیا ہے کہ انہیں کوئی خبر نہ سنائی جائے تاہم وہ موسم کا حال اور مختلف کھیل ٹی وی کی آواز بند کرکے دیکھتے ہیں۔

گزشتہ برس ماہ سرما میں ایرک ہیگرمین اپنے بھائی کے گھر گئے تو وہاں خبروں کا بلیک آؤٹ کرنے کے خاص انتظامات کیے گئے تھے۔ اخبار نظروں سے دور، ٹی وی بند اور تمام گھروالوں کو خبر نہ سنانے کی ہدایات دی گئی تھیں۔

لیکن خبریں خود چل کر ہیگرمین تک پہنچتی رہیں۔ ایک مرتبہ وہ دکان میں کافی پی رہے تھے کہ کسی نے جنوبی کوریا کے صدر کِم جونگ آن کا نام لیا تو وہ سمجھے کہ جنوبی کوریا میں کچھ ہورہا ہے۔ اسی طرح کسی نے چلتے چلتے اوباما کیئر کا حوالہ دیا تو انہیں علم ہوا کہ شاید صدر اوباما کا یہ پروگرام اب خبروں کی زینت بنا ہوا ہے تاہم ان سب کے باوجود وہ بڑی حد تک خبروں سے بے خبر رہنے میں کامیاب رہے ہیں۔

لیکن ان کے اس رویے کی خبر اب گرم ہے اور سوشل میڈیا پر لوگوں نے بحث شروع کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق مشہور بزنس مین یا تو دنیا سے کنارہ کشی چاہتے ہیں یا پھر بہت خود غرض ہیں۔

ٹوئٹر پر ایک شخص نے کہا کہ خود ان کا بھی خواب ہے کہ وہ ہیگرمین کی طرح کی عادت اختیار کرلیں۔ ٹوئٹر پر ہی ایک اور شخص جمیل اسمتھ نے لکھا کہ ’ ایرک ہیگرمین غلط کررہے ہیں خود سے چاہتے ہوئے بھی بے خبر رہنا کسی طرح مفید نہیں‘۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں