آج میں بہت اداس ہوں

آصف سلیم مٹھا سے

آج 25 مارچ کو ضلع جہلم سرائے علمگیر کے گاوں ڈیرہ پہاڑیاں میں ایک بے روز گار غربت بھوک افلاس سے تنگ آ کر اپنے چار نونہالوں 15 سالہ علی شان ۔ 10 سالہ زینب ۔9 سالہ عا ئشہ۔8 سالہ ایمن کو کلہاڑیوں کے وار سے انکی آواز ہمیشہ کے لئے بند کر دی کہ وہ روٹی کے ساتھ ساتھ چھوٹی موٹی ضروریات کا تقاضا کرتے تھے ایک بیٹا اور بیوی کسی سے ایک وقت کے کھانے کا انتظام کرنے گئے ہوئے تھے اسطر ح وہ بچ گئے ہم بے شرم و حس حکمرانوں کے داو کے نیچے آئے ہوے ہیں ملک میں سارا نظام موجود ہے ایس پی ہیں تھانے ہیں ڈی سی ہیں اے سی ہیں مگر یہ سارا دن کیا کرتے ہیں کبھی کسی نے جاننے کی کوشش ہی نہی کی چیف جسٹس صاحب بھی سلطان راہی بنے ہوئے ہیں کچھ ہو نہ ہو بڑک تو سب کو سنائی دیتی ہے نواز پارٹی اپنے ن کو سیدھا کرنے اور عمران خان صاحب نئی شادی کے ہنی مون میں مصروف ہیں بلاول اور زرداری نئی پرانی جنگ میں الجھ گئے ہیں کئی سالوں بعد اب کالم نگار اور سیاسی تجزیہ نگاروں کو 18 ویں پر لکھنے کا موضوع ہاتھ آگیا ہے یہ بات کوئی نہی کرتا کہ عام بندے کو روٹی کیسے ملے گی اسکی بنیادی ضروریات زندگی کا حل کیا ہے ؟ اسکا والی وارث کون ہے ؟ جن ممالک کو ہم کافر کہتے ہیں انہی سے پنا مانگتے ہیں ان کے ملکوں اسلامی انسانی نظام جیسا ہی نظام موجود ہے جہاں ریاست ماں کے جیسی ہے اور ہم عمرے حج کھڑکا کر انسانوں اور اللہ کو دھوکہ دینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ہمارے سامنے سب ہو رہا ہے مگر ہم کچھ نہی کر پاتے ہلاں کے زیادہ پیر بزرگ جہلم سے شروع ہوتے ہیں مگر پھر بھی سرائے عالمگیر کے گاوں ڈیرہ پہاڑیاں میں یہ لرزا خیز واردات ہو گئی خُدا را آیئں سب ملکر اپنے ہم وطنوں میں ایک ضروری آگہی مہم چلائیں اللہ کا واسطہ ہے کہ مصوم بچوں کو والدین رزق کے واسطے قتل نہ کریں خود کشی نہ کریں طلاق نہ دیں انہیں کچھ بھی مدد چاہیئے وہ مجھ سے رابطہ کرلیں کیونکہ ہمارے ڈپٹی کمشنر اسٹنٹ کیمشنر تھانیدار ایس پی ڈی پی اوز شہباز شریف خٹک و دیگر وزراءاعلیٰ کے جلسوں کو کامیاب بنانے کے لئے کام کرتے رہیں گے آج میں بہت اداس ہوں آپ میرے ساتھ رابطہ کر لیں اپنے بچوں کو اس طرح نہ قتل کریں

آصف سیلم مٹھا
00447957442790

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں